بلغاریہ: الیانا یوتووا صدارتی رن آف جیت گئیں، پہلی منتخب خاتون صدر

0

بلغاریہ کی قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے یکم نومبر کو ہونے والے صدارتی رن آف میں واضح کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تقریباً مکمل نتائج کے مطابق یوتووا نے 57.58 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندرے گیوروف کو 39.47 فیصد ووٹ ملے۔ اگر مرکزی الیکشن کمیشن حتمی نتائج کی تصدیق کر دیتا ہے تو یوتووا بلغاریہ کی پہلی منتخب خاتون سربراہ مملکت بن جائیں گی۔

رن آف کے نتائج اور کم ٹرن آؤٹ

رن آف سے قبل جاری ہونے والے ایگزٹ پولز میں بھی یوتووا کو برتری حاصل تھی، تاہم حتمی گنتی میں ان کی برتری ایگزٹ پولز سے زیادہ نکلی۔ الفا ریسرچ کے ایگزٹ پول میں یوتووا کو 52.5 فیصد اور گیوروف کو 43.4 فیصد ووٹ ملنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ تقریباً مکمل گنتی کے مطابق یوتووا اور ان کے نائب صدارتی امیدوار کرل والچیو کو تقریباً 11 لاکھ ووٹ ملے جبکہ گیوروف اور جارجی کاندیو کو تقریباً 7 لاکھ 49 ہزار 500 ووٹ ملے۔ تقریباً 2.95 فیصد ووٹرز نے کسی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا آپشن چنا۔

دوسرے مرحلے میں ٹرن آؤٹ 30 فیصد سے کم رہا، جو بلغاریہ کی تاریخ کے کم ترین ٹرن آؤٹ میں سے ایک ہے۔ پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ 22.98 فیصد تھا، جو کمیونزم کے خاتمے کے بعد سب سے کم تھا۔ پہلے مرحلے میں یوتووا نے 34.76 فیصد اور گیوروف نے 31.95 فیصد ووٹ لیے تھے، جس کے بعد کسی امیدوار کو اکثریت نہ ملنے پر رن آف کرانا پڑا تھا۔

یوتووا کون ہیں اور ان کی پالیسی کیا ہے

62 سالہ الیانا یوتووا اس سے قبل صدر رومن رادیو کی نائب صدر رہ چکی ہیں اور جنوری میں رادیو کے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام صدر بنی تھیں۔ رادیو نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے صدارت چھوڑی تھی۔ یوتووا کو وزیر اعظم رومن رادیو کی ماسکو دوست پروگریسو بلغاریہ جماعت اور بلغارین سوشلسٹ پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ اس جماعت نے اپریل کے پارلیمانی انتخابات میں 240 میں سے 131 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

یوتووا کی مہم کا مرکزی نکتہ یوکرین کو مزید اسلحہ نہ دینا اور سفارتی حل کے ذریعے امن کی کوشش تھا، جبکہ ان کے حریف گیوروف مغرب نواز اپوزیشن جماعتوں کے حمایت یافتہ تھے اور بینکار اور سابق نگران وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ یوتووا نے کامیابی کے اعلان پر کہا کہ ان کا پیغام امن اور استحکام پر مبنی تھا۔ گیوروف نے نتائج قبول کرتے ہوئے کہا کہ مہم ختم ہو رہی ہے مگر ذمہ داری ختم نہیں ہوئی۔

انتخاب کی اہمیت اور آگے کا راستہ

یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر ڈرون حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اکتوبر میں بلغاریہ کے قریب بحیرہ اسود میں کئی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 21 افراد لاپتہ ہوئے تھے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعات روس یوکرین جنگ کے اثرات کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔ بلغاریہ کا صدر براہ راست ووٹ سے پانچ سال کے لیے منتخب ہوتا ہے، تاہم یہ عہدہ بڑی حد تک رسمی ہے۔ سرکاری حتمی نتائج بدھ تک جاری ہونے کی توقع ہے۔

عالمی سیاست کی دیگر خبروں کے لیے سوڈان ایتھوپیا شکایت والی خبر بھی پڑھی جا سکتی ہے اور اوڈیسا پر روسی حملہ والی خبر بھی ملاحظہ کریں۔

ماخذ: رائٹرز، اے پی، فرسٹ پوسٹ، ترکئیے ٹوڈے اور نیشن کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *