ایشیائی مارکیٹیں دھڑام، کوسپی 9 فیصد گر گیا
وال اسٹریٹ کی تاریخی مندی کے بعد جمعہ 6 نومبر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں بھی دھڑام سے گر گئیں — جنوبی کوریا کا بینچ مارک انڈیکس کوسپی صبح کی تجارت میں 9 فیصد تک گر گیا اور 5,000 کی نفسیاتی حد سے نیچے چلا گیا، جس پر کوریا ایکسچینج کو 20 منٹ کے لیے تجارت روکنی پڑی۔ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 5 فیصد سے زائد گر گیا، جب کہ چپ بنانے والی بڑی کمپنیوں سام سنگ اور ایس کے ہائنکس کے حصص میں دوہرے ہندسوں کی کمی دیکھی گئی۔
کوسپی میں سرکٹ بریکر کیوں لگا؟
جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس نے جمعہ کی صبح 9 بج کر 3 منٹ پر اسٹیج ون سرکٹ بریکر متحرک کر دیا، جب انڈیکس 4,924.61 پوائنٹس پر تھا — پچھلے بند سے 459.19 پوائنٹس یا 8.52 فیصد نیچے۔ کوریا ایکسچینج نے کیش مارکیٹ کی تجارت 20 منٹ کے لیے معطل کر دی۔ دن کے دوران انڈیکس 4,911.28 تک بھی گرا، جو جنوری کے بعد کی کم ترین سطح تھی، اور بالآخر 6.02 فیصد کمی کے ساتھ 5,059.65 پوائنٹس پر بند ہوا — جو 26 جنوری کے بعد سب سے کم بندش ہے۔ چھوٹی کمپنیوں کا انڈیکس کوسڈیک بھی 5.04 فیصد گر کر 644.25 پر بند ہوا۔
سام سنگ اور ایس کے ہائنکس کو شدید نقصان
فروخت کی قیادت چپ بنانے والی بڑی کمپنیوں نے کی۔ سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص صبح کی تجارت میں تقریباً 10 فیصد تک گر گئے، جب کہ ایس کے ہائنکس 11.71 فیصد تک نیچے چلا گیا — بعض رپورٹس کے مطابق دن کے دوران یہ کمی 14 فیصد تک پہنچ گئی۔ ٹوکیو میں سافٹ بینک کے حصص بھی تقریباً 11 فیصد گر گئے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے جمعہ کو کوسپی کے حصص میں خالص 2.80 ٹریلین ون (تقریباً 2.06 ارب ڈالر) کی فروخت کی، جب کہ مقامی اداروں اور خوردہ سرمایہ کاروں نے خریداری کی۔
نکی اور دیگر ایشیائی مارکیٹیں بھی متاثر
جاپان کا نکی 225 انڈیکس 5.27 فیصد گر کر 57,858.61 پوائنٹس پر آ گیا — اپریل 2025 کے بعد اس کی سب سے بڑی ایک روزہ کمی کی جانب گامزن۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.77 فیصد نیچے 24,607.21 پر بند ہوا، جب کہ وسیع تر ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں تقریباً 3 فیصد کمی آئی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق نکی اور تائیوان کا ٹائیکس اپنے حالیہ عروج سے 20 فیصد گر کر تکنیکی طور پر بیئر مارکیٹ کے علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔
وال اسٹریٹ کی مندی کیسے پھیلی؟
ایشیائی مارکیٹوں کی یہ گراوٹ جمعرات 5 نومبر کو وال اسٹریٹ کی بدترین تجارت کے بعد آئی، جب نیسڈیک کمپوزٹ 5.52 فیصد گر کر کریکشن میں داخل ہو گیا اور فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس 12.25 فیصد گر گیا۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر سخت ضوابط لگ سکتے ہیں، جس سے اے آئی کی تیزی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اسی خدشے نے چپ اور ٹیکنالوجی کے حصص کو دنیا بھر میں نیچے دھکیل دیا۔
ون بھی کمزور، بانڈ ییلڈ نیچے
کوریا کا ون بھی دباؤ میں رہا اور دن کی تجارت میں 1,357.8 ون فی ڈالر پر بند ہوا — 28 ستمبر کے بعد اس کی کمزور ترین بندش۔ اسٹاکس اور کرنسی کی بیک وقت گراوٹ نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ یہ بحران صرف حصص کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غیر ملکی سرمائے، درآمدی اخراجات اور کمپنیوں کی مالی حالت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب سرکاری بانڈز کی ییلڈ میں کمی آئی، جس سے قرض لینے کی لاگت میں کچھ نرمی ملی۔
آگے کیا ہوگا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹوں کی توجہ اب امریکہ میں اے آئی ضوابط سے متعلق پیش رفت، چپ کمپنیوں کے نتائج اور آئندہ ہفتے ہونے والی امریکی چین تجارت سے متعلق خبروں پر رہے گی۔ سرمایہ کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا یہ گراوٹ عارضی اصلاح ہے یا اے آئی کی تیزی کے خاتمے کی شروعات۔ پاکستان سمیت ابھرتی مارکیٹوں پر بھی اس عالمی فروخت کے اثرات نظر رکھے جا رہے ہیں، کیونکہ غیر ملکی سرمائے کا بہاؤ اور ڈالر کی قدر براہ راست متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: وال اسٹریٹ میں تاریخی مندی، نیسڈیک 5.52 فیصد گر گیا — https://ntmnews.online/?p=3839 اور زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 26.86 ارب ڈالر، اسٹیٹ بینک — https://ntmnews.online/?p=3816
ماخذ: خبر ایجنسیوں رائٹرز اور یونہاپ، اجو پریس اور اکنامک ٹائمز کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹس کی بنیاد پر۔