پیراگوئے: صدر کا استعفیٰ موخر، مواخذہ جمعے سے
پیراگوئے کی کانگریس نے صدر سینٹیگو پینا کا استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے اسے موخر کر دیا ہے اور ان کے خلاف مواخذے کا مقدمہ جمعے کی صبح سے شروع ہوگا۔ پینا نے جمعرات کو بینک بحران پر استعفیٰ کا اعلان کیا تھا، لیکن پارلیمان نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے ان کا مواخذہ ہوگا۔ نائب صدر پیڈرو الیانا کے صدر بننے کا امکان ہے۔
استعفیٰ موخر، مواخذہ آگے
صدر پینا نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک کے استحکام اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔
لیکن کانگریس نے ان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول نہیں کیا۔ ایوان زیریں نے متفقہ طور پر مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دی، جبکہ نائب صدر پیڈرو الیانا کے خلاف مواخذے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔
کانگریس نے دونوں ایوانوں کا غیر معمولی اجلاس بلایا تھا تاکہ استعفیٰ قبول کیا جائے یا مسترد کر کے مواخذہ آگے بڑھایا جائے، لیکن اجلاس میں کورم پورا نہ ہو سکا۔ بعد میں ایک اور اجلاس میں مواخذے کا مقدمہ جمعے کی صبح سے شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔
صدر پینا نے کہا ہے کہ وہ اپنے مواخذے کے مقدمے میں پیش ہوں گے اور اپنے دفاع کا حق استعمال کریں گے۔ انہوں نے اس سے قبل پیراگوئے کے عوام سے معافی بھی مانگی تھی۔
یوینو بینک بحران نے حکومت گرا دی
بحران اس وقت شروع ہوا جب پیراگوئے کے مرکزی بینک نے منگل کو یوینو بینک پر قبضہ کر لیا۔ مرکزی بینک کے مطابق بینک کم از کم مالی استحکام کی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا تھا۔
یوینو بینک ایک ڈیجیٹل بینک تھا جو چند سال میں ایک چھوٹی مالیاتی کمپنی سے ملک کے بڑے بینکوں میں سے ایک بن گیا تھا۔ اس کے تقریباً 30 لاکھ صارفین ہیں، جو 65 لاکھ آبادی والے ملک کی تقریباً نصف آبادی ہے۔
بینک پر قبضے کے بعد لاکھوں افراد اپنے پیسوں تک رسائی سے محروم ہو گئے، جن میں پنشنرز بھی شامل ہیں۔ اس پر ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے اور ہزاروں افراد کانگریس کے باہر جمع ہو کر صدر کے استعفے کا مطالبہ کرنے لگے۔
مواخذے کے الزامات کیا ہیں؟
اپوزیشن اراکین نے بدھ کو پینا کے خلاف مواخذے کی درخواست جمع کرائی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ بینک کے ساتھ معاملات میں مفادات کا ٹکراؤ تھا، پنشن فنڈز کا غلط استعمال ہوا اور بینک کو نگرانی سے بچانے میں مدد کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق صدر پینا کے انتخاب سے پہلے یوینو بینک کو کنٹرول کرنے والے گروپ میں حصص تھے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال اپنے حصص فروخت کر دیے تھے۔
حکمران کولوراڈو پارٹی کے دونوں اہم دھڑوں نے بھی مواخذے کی حمایت کر دی، جب پارٹی کے طاقتور رہنما اور سابق صدر ہوراسیو کارٹس نے پینا کی حمایت واپس لے لی۔ بینک کے 8 اعلیٰ عہدیداروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
پینا نے مرکزی بینک کے صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ پانچ دن میں لوگوں کی رقوم واپس کر دی جائیں گی، لیکن ان اقدامات سے بحران ختم نہیں ہوا۔
مرکزی بینک نے کہا ہے کہ صارفین کے کھاتے اور قابل قدر اثاثے دوسرے بینکوں میں منتقل کیے جائیں گے، جس کے بعد باقی اثاثے فروخت کر دیے جائیں گے۔
اگر مواخذے کا مقدمہ آگے بڑھتا ہے تو نائب صدر پیڈرو الیانا صدر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ پیراگوئے جنوبی امریکہ کی مستحکم معیشتوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، اور اس بحران نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل کر دیا ہے۔
ماخذ: فل اسٹار، ملے میل، گلف نیوز اور بزنس ورلڈ کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹس۔
اندرونی روابط: صدر پینا کے استعفے کی ابتدائی خبر کے لیے https://ntmnews.online/?p=3765 اور فرانس میں ملک گیر ہڑتال کی خبر کے لیے https://ntmnews.online/?p=3844 دیکھیں۔