فرانس میں ملک گیر ہڑتال، ایفل ٹاور بند

0

فرانس میں جمعرات 5 نومبر کو لاکھوں کارکنوں نے ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں میں حصہ لیا، جس کے باعث پیرس کا مشہور ایفل ٹاور اور آرک ڈی ٹرائمف دن بھر کے لیے بند رہے۔ مظاہرین نے بڑھتی مہنگائی، کم اجرت اور عوامی خدمات میں کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کیا، جب کہ پیرس اور لیون سمیت کئی شہروں میں پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔

کتنے لوگ سڑکوں پر آئے؟

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں 575,000 افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا، جب کہ سب سے بڑی مزدور یونین سی جی ٹی کا دعویٰ ہے کہ تعداد 16 لاکھ تک تھی۔ صرف پیرس میں وزارت داخلہ کے مطابق 60,000 افراد نے مارچ کیا، جب کہ سی جی ٹی کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں 350,000 افراد شریک تھے۔ پیرس میں مارچ پلیس ڈی لا ریپبلک سے پلیس ڈی لا نیشن تک گیا۔ دوپہر تک 73 شہروں میں 250,000 سے زیادہ افراد مظاہروں میں شریک ہو چکے تھے۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ شام 6 بجے تک 448 افراد کو گرفتار کیا گیا اور جھڑپوں میں 53 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

ہڑتال کیوں ہو رہی ہے؟

مظاہرین زیادہ کم از کم اجرت، تمام کارکنوں کی تنخواہوں میں اضافہ، ٹیکس نظام میں تبدیلی اور اسکولوں میں بہتر حالات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہڑتال کی کال سی جی ٹی سمیت بڑی مزدور یونینوں نے دی تھی، جس میں اساتذہ، ریلوے کارکن، اسپتال کا عملہ، ڈاک کے ملازمین اور توانائی کے شعبے کے کارکن شامل ہوئے۔ طلبہ کی تحریک بھی اس میں شامل رہی — ملک کے تقریباً ایک تہائی ہائی اسکول بند یا طلبہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے کام نہیں کر سکے، اور ملک بھر میں 16 فیصد اساتذہ ہڑتال پر رہے۔ یہ احتجاج ہفتوں سے جاری طلبہ کی قیادت والی تحریک کے بعد ایک نیا مرحلہ ہے، جسے بعض میڈیا نے “بلیک تھرسڈے” کا نام دیا ہے۔

ایفل ٹاور کیوں بند ہوا؟

ایفل ٹاور کی انتظامیہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ “قومی ہڑتال کی وجہ سے ایفل ٹاور فی الحال بند ہے”، جس کے باعث سیاح دن بھر اس مشہور مقام پر نہیں جا سکے۔ آرک ڈی ٹرائمف بھی بند رہا۔ لیون میں میٹرو سروس معطل رہی، جب کہ پیرس مونپارناس اسٹیشن پر 97 فیصد ریلوے کارکن ہڑتال پر تھے۔ عوامی نقل و حمل، اسکولوں اور پروازوں میں بھی خلل پڑا۔ حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر میں 70,000 پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز تعینات کیے تھے، اور وزیر داخلہ لاراں نونیز نے کسی بھی بدامنی کے خلاف “انتہائی سخت ردعمل” کا وعدہ کیا تھا۔

صدر میکرون پر دباؤ

یہ ہڑتال صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج ہے، جو پہلے ہی مالی مشکلات سے نمٹ رہی ہے۔ فرانس یوروزون کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اسے اپنے مالیاتی خسارے کو درست کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ چھ ماہ بعد فرانس میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں، جن میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں رائے عامہ کے جائزوں میں آگے ہیں۔ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

آگے کیا ہوگا؟

یونینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اجرت اور عوامی خدمات کے مطالبات پر جواب نہ دیا تو مزید ہڑتالیں اور مظاہرے ہوں گے۔ طلبہ تنظیموں نے بھی آئندہ دنوں میں نئی ناکہ بندیوں اور مظاہروں کی کال دی ہے۔ فرانس کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور یونینوں کے درمیان مذاکرات ہی بحران کا واحد راستہ ہیں۔ مزید عالمی خبریں پڑھیں: آئزن کوٹ کو 67 اراکین کی حمایت، نیتن یاہو پیچھے اور Vance Blames Iran War for Republican Midterm Defeat (English)۔

ذرائع: الجزیرہ، دی ہندو، چینل نیوز ایشیا، اے ایف پی، فرانس 24 — 5 تا 6 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *