رسل برانڈ عصمت دری کے مقدمے میں مجرم قرار
برطانوی اداکار اور کامیڈین رسل برانڈ کو لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ کی جیوری نے جمعرات 5 نومبر کو عصمت دری کے ایک الزام اور جنسی حملے کے تین الزامات میں مجرم قرار دے دیا۔ جج نے 51 سالہ برانڈ کو خبردار کیا ہے کہ انہیں طویل قید کی سزا کا سامنا ہے، اور سزا کا اعلان پیر 9 نومبر کو ہوگا۔ برانڈ کو ضمانت سے انکار کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
جیوری کا فیصلہ کیا تھا؟
جیوری نے تقریباً ساڑھے آٹھ گھنٹے کی غور و فکر کے بعد چاروں مجرمانہ فیصلے متفقہ طور پر سنائے۔ برانڈ کو عصمت دری کے ایک الزام اور جنسی حملے کے تین الزامات میں مجرم قرار دیا گیا، جو چار مختلف خواتین سے متعلق تھے اور 2004 سے 2009 کے درمیان پیش آئے۔ دوسری جانب جیوری نے انہیں عصمت دری کے دو دیگر الزامات اور غیر مہذب حملے کی کوشش کے ایک الزام سے بری کر دیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جج جوئل بیناتھن نے کہا کہ برانڈ کو “طویل قید کی سزا” کا سامنا ہے، اور برطانیہ میں عصمت دری کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔
مقدمے کی تفصیل
یہ مقدمہ 12 اکتوبر سے ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں چل رہا تھا اور چار ہفتوں تک جاری رہا۔ استغاثہ کے مطابق الزامات 1999 سے 2009 کے درمیان کے ہیں، وہ سال جب برانڈ چھوٹے اسٹیجوں پر اسٹینڈ اپ کامیڈی سے اٹھ کر ٹیلی ویژن پیشکار اور ہالی وڈ فلم اسٹار بنے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ چھ خواتین نے شہادت دی، جنہیں تاحیات شناخت ظاہر نہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ مجرم قرار دیے گئے واقعات میں 2004 میں سوہو کے ایک بار میں پارٹی کے دوران ایک خاتون سے بدسلوکی، 2004 یا 2005 میں لندن کے چوائس ایف ایم اسٹوڈیو میں حملہ، 2009 میں ہیمرسمتھ اپالو میں اسٹینڈ اپ شو کے بعد ایک خاتون سے عصمت دری، اور 2009 میں چینل 4 کے ایک منصوبے پر کام کرنے والی خاتون سے جنسی حملہ شامل ہیں۔ برانڈ نے تمام الزامات سے انکار کیا تھا اور خود کو بے گناہ قرار دیا تھا۔
برانڈ کون ہیں؟
رسل برانڈ برطانیہ کے سب سے معروف کامیڈینز میں سے ایک رہے ہیں، جنہوں نے “گیٹ ہم ٹو دی گریک” اور “آرتھر” جیسی ہالی وڈ فلموں میں کام کیا۔ وہ ایک وقت میں امریکی پاپ اسٹار کیٹی پیری کے شوہر بھی رہے۔ حالیہ برسوں میں وہ ایک مذہبی آن لائن شخصیت کے طور پر سامنے آئے اور سوشل میڈیا پر ان کے لاکھوں فالوورز ہیں۔ استغاثہ نے جیوری کو بتایا کہ برانڈ “جنسی تعلقات کے جنون” میں مبتلا تھے اور خواتین کو اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ لورا مقدمے کے دوران زیادہ تر دن عدالت کی عوامی گیلری میں موجود رہیں۔
سزا کتنی ہو سکتی ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق عصمت دری کی سزا کے لیے برطانوی رہنما اصول چار سے 19 سال قید کی حد بتاتے ہیں۔ ایک سینئر وکیل نے پیج سکس کو بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق برانڈ کو تقریباً آٹھ یا نو سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ جج کا ہوگا۔ جج کو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ جنسی حملے کے تینوں الزامات کی سزائیں عصمت دری کی سزا کے ساتھ ساتھ چلیں گی یا اس کے بعد۔ سزا پیر 9 نومبر کو سنائی جائے گی۔
مزید تحقیقات جاری
میٹروپولیٹن پولیس نے فیصلے کے بعد تصدیق کی ہے کہ برانڈ کے خلاف مزید دو عصمت دری کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، جن میں سے ایک میں ایک اس وقت 16 سالہ لڑکی کا الزام شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ان الزامات پر مزید مقدمات بھی قائم ہو سکتے ہیں۔ کراؤن پراسیکیوشن سروس نے ابتدائی پانچ الزامات کی منظوری اپریل 2025 میں دی تھی، جو 1999 سے 2005 کے درمیان کے واقعات سے متعلق تھے۔
تفریحی دنیا میں ہلچل
اس فیصلے نے برطانیہ اور امریکہ کی تفریحی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں برانڈ کے کیریئر پر بحث جاری ہے۔ یہ مقدمہ ان نمایاں مقدمات میں سے ایک ہے جن میں مشہور شخصیات کے خلاف جنسی جرائم کے الزامات پر عدالت میں فیصلہ آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: صبا قمر کا کیس نمبر 10: شوٹنگ شروع، طابش ہاشمی کی ڈیبیو اور وجے سیتھوپتی انٹرنیشنل ایمیز جیت گئے۔
ذرائع: رائٹرز، الجزیرہ، یو ایس اے ٹوڈے، ملی میل — 5 تا 6 نومبر 2026۔