آئزن کوٹ کو 67 اراکین کی حمایت، نیتن یاہو پیچھے

0

اسرائیل میں حکومت سازی کی دوڑ میں بڑا موڑ آ گیا ہے۔ عرب جماعتوں نے سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد انہیں 120 رکنی کنیسٹ کے 67 اراکین کی سفارش حاصل ہو گئی ہے، جبکہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو صرف 46 اراکین کی حمایت پر رہ گئے ہیں۔ صدر اسحاق ہرتزوگ 11 نومبر تک فیصلہ کریں گے کہ حکومت بنانے کا مینڈیٹ کسے دیا جائے۔

عرب جماعتوں کا فیصلہ

جوائنٹ لسٹ نے جمعرات 5 نومبر 2026 کو اعلان کیا کہ وہ صدر ہرتزوگ کو سفارش کرے گی کہ یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔ جوائنٹ لسٹ کے پاس کنیسٹ میں 11 نشستیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رعام پارٹی نے بھی آئزن کوٹ کی حمایت کر دی، جس کے پاس 8 نشستیں ہیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔

جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے کہا کہ یہ فیصلہ عرب ووٹروں کی سیاسی تبدیلی کی شدید خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے دور میں نسل پرستی، امتیازی سلوک، بڑھتے ہوئے جرائم اور عرب شہریوں کو نظر انداز کیے جانے کا حوالہ دیا۔ جوائنٹ لسٹ کے رکن احمد طیبی نے کہا کہ ان کی جماعت اقلیتی حکومت کو باہر سے حمایت دینے کے لیے تیار ہے۔

67 بمقابلہ 46 — اعداد کیا کہتے ہیں

آئزن کوٹ کو چھ جماعتوں کی سفارش حاصل ہو چکی ہے۔ ان کی اپنی یشار پارٹی کی 21 نشستوں کے علاوہ ڈیموکریٹس، یسرائیل بیتینو، رعام اور جوائنٹ لسٹ نے ان کی حمایت کی ہے۔ نیتن یاہو کو 46 اراکین کی سفارش ملی ہے۔ انتہائی قدامت پسند جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈائزم نے اس بار کسی بھی امیدوار کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ اس نے پچھلے پانچ انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کی تھی۔

اہم بات یہ ہے کہ سفارش کا مطلب اتحادی حکومت میں شمولیت نہیں ہے۔ آئزن کوٹ کے قریبی ذرائع کے مطابق جوائنٹ لسٹ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور سفارش کے بدلے انہیں کچھ پیش نہیں کیا گیا۔ جوائنٹ لسٹ نے واضح کیا ہے کہ اس کی سفارش کا مقصد نیتن یاہو کی حکومت کی واپسی روکنا ہے۔

صدر ہرتزوگ کی مشاورت

صدر اسحاق ہرتزوگ جمعرات کو سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے دوسرے روز بھی مصروف رہے۔ انہوں نے پہلے چھوٹی جماعتوں سے ملاقات کی اور پھر نیتن یاہو اور آئزن کوٹ سے بھی ملنے کا شیڈول تھا۔ صدر کے پاس 11 نومبر تک کا وقت ہے۔ روایت کے مطابق صدر اس امیدوار کو مینڈیٹ دیتے ہیں جس کی سفارش زیادہ جماعتیں کریں، اس لیے توقع ہے کہ آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری ملے گی۔

جس امیدوار کو مینڈیٹ ملے گا، اسے حکومت بنانے کے لیے 28 دن ملیں گے اور مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہے۔ نئی کنیسٹ 10 نومبر کو حلف اٹھائے گی۔

انتخابات کا پس منظر

اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے عام انتخابات میں کسی بھی بلاک کو اکثریت نہیں ملی تھی۔ 4 نومبر کو نتائج کی باضابطہ توثیق ہوئی تھی جس کے مطابق نیتن یاہو کے بلاک کو 53، آئزن کوٹ کے بلاک کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملی تھیں۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے۔

انتخابات کے بعد سے ہی سیاسی تعطل جاری تھا اور صدر ہرتزوگ نے تمام جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ عرب جماعتوں کی حمایت نے اب آئزن کوٹ کو واضح برتری دلا دی ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے انہیں اب بھی اتحادی جماعتوں سے معاہدے کرنے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل میں انتخابی نتائج کی توثیق، نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد — https://ntmnews.online/?p=3687
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا اعتراف، ایران جنگ نے ریپبلکنز کو نقصان پہنچایا — https://ntmnews.online/?p=3629

ماخذ: ڈان، دی تھرسڈے ٹائمز، انڈین ایکسپریس اور ہاریٹز، 5 تا 6 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *