ٹرمپ کا اعتراف: ایران جنگ نے ریپبلکنز کو نقصان پہنچایا

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے منگل کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے نقصان میں کردار ادا کیا۔ فاکس نیوز کو ٹیلی فون انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کا ایک حصہ تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام ان کے ایران سے متعلق اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو ٹرمپ کی صدارت کے آخری دو سال کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کو کیا کہا؟

رائٹرز اور دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا: “میرے خیال میں اس کا ایک حصہ ایران تھا، لیکن ساتھ ہی لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے ایران کے ساتھ جو کیا ہے وہ کتنا اہم ہے۔” ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ عوام شاید پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے قلیل مدتی نتائج برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان کے ایران سے متعلق اقدامات سے متفق ہیں، لیکن پٹرول کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کے قلیل مدتی نتائج کے لیے تیار نہیں تھے۔

ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اچھا کام کیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس نتیجے کو اپنے خلاف دھچکا نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بیلٹ پر نہیں تھے، اور اگر ہوتے تو بڑی کامیابی حاصل کرتے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، لیکن ان کے نزدیک “پاگل پن” پر مبنی قانون سازی کو ویٹو کر دیں گے۔

ایران کا ردعمل: “امریکیوں نے جنگ کو نہ کہا”

ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بدھ کو کہا کہ امریکی عوام نے جنگ کو “نہ” کہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ضمیر ہو یا مہنگائی، امریکیوں نے جنگ کو نہ کہا ہے، اور ایران اس پیغام کی تائید کرتا ہے۔ قالیباف نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ وہ عوامی رائے کو نظر انداز کر کے ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرے۔

جنگ کا پس منظر اور انتخابی نتائج

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنا اور اس کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا بتایا گیا تھا۔ اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی، لیکن کشیدگی برقرار رہی۔ رپورٹس کے مطابق جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے امریکی ووٹرز میں مہنگائی اور زندگی گزارنے کی لاگت پر ناراضی بڑھی۔ ایگزٹ پولز میں تقریباً 60 فیصد سے زیادہ ووٹرز نے ٹرمپ کی پالیسیوں سے عدم اطمینان ظاہر کیا تھا۔

آگے کیا ہوگا؟

ڈیموکریٹس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو سخت چیلنج کا سامنا ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنی کابینہ میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتے اور نتائج کو قبول کرتے ہیں۔ تاہم، قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران پر جنگ شروع کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں اور وہ دوبارہ بھی یہی کرتے۔

مزید پڑھیں: امریکی مڈٹرم میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں جیت اور امریکی ایوان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی۔

ماخذ: رائٹرز، 4 نومبر 2026؛ گلف نیوز، 4 نومبر 2026؛ ٹائمز آف انڈیا، 4 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *