کرم میں دراندازی ناکام، افغان طالبان کی چوکیوں کو نقصان
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جمعرات 5 نومبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے شلوزان سیکٹر میں پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا ایک گروہ سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، جسے فورسز نے بروقت کارروائی سے روک دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دراندازی ناکام ہونے کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ شروع کر دی، جس پر پاکستانی فورسز نے بھاری ہتھیاروں سے جوابی کارروائی کی اور افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا۔
شلوزان سیکٹر میں کیا ہوا؟
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعہ جمعرات کو کرم کے شلوزان سیکٹر میں پیش آیا، جہاں مشتبہ دہشت گردوں کے گروہ نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی فورسز نے مشکوک نقل و حرکت کا پتا چلتے ہی کارروائی کی اور دراندازوں کو پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔ پاکستانی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا اور بھاری ہتھیاروں سے ان پوزیشنوں کو نشانہ بنایا جہاں سے فائرنگ کی جا رہی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی کئی سرحدی چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا اور دراندازی کی کوشش مکمل طور پر ناکام بنا دی گئی۔
نقصان اور جانی نقصان کی صورتحال
سیکیورٹی ذرائع نے افغان طالبان کی چوکیوں کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کیا ہے، تاہم افغان جانب ہونے والے جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ پاکستانی جانب کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اب تک پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اس تازہ جھڑپ کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا ہے، اور تمام تفصیلات سیکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں۔
سرحد پر کشیدگی کا پس منظر
یہ واقعہ پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ اس سے قبل یکم نومبر کو جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ کے قریب بھی افغان سرحدی پوزیشنوں سے فائرنگ کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی تھی۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں اور سرحد پار فائرنگ کے واقعات حالیہ ہفتوں میں بڑھے ہیں، جس سے سرحدی سلامتی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اکتوبر میں بھی سرحد پر دراندازی کی کوشش کے دوران ایک مہلک جھڑپ ہوئی تھی۔ انگور اڈہ واقعے کی تفصیل یہاں پڑھیں
آگے کیا ہوگا؟
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز سرحد پر مکمل چوکس ہیں اور دراندازی کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ سرحدی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے فائرنگ کے واقعات میں کمی نہ آنے کی صورت میں سرحدی کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔ افغانستان کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ افغان باشندوں کی واپسی کی تازہ صورتحال یہاں پڑھیں
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے، آج ٹی وی، اردو پوائنٹ (اے پی پی)، دنیا نیوز — 5 نومبر 2026