سلامتی کونسل نے پاکستان کی سفارتکاری تجویز منظور کر لی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ تجویز پر “جاری لڑائی کے دوران سفارتکاری کے کردار” سے متعلق صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعرات 5 نومبر 2026 کو ہوا اور پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس منظوری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب لڑائی شدت اختیار کرے تو سفارتکاری کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
بیان میں کیا کہا گیا
دفتر خارجہ کے مطابق نیا صدارتی بیان سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) کی بنیاد پر کھڑا ہے، جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ بیان اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی رابطے جاری رہنے چاہئیں، تاکہ غلط فہمی اور کشیدگی میں اضافے کا خطرہ کم ہو، جنگ بندی کی راہ ہموار ہو اور پرامن سیاسی حل کے امکانات پیدا ہوں۔
اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ “جب لڑائی شدت اختیار کرے تو سفارتکاری کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، بلکہ اسے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور امن کا اور بھی طاقتور ذریعہ بننا چاہیے۔” دفتر خارجہ نے اس منظوری کو کونسل کے موضوعاتی کام میں پاکستان کا اہم حصہ قرار دیا۔
تجویز کی منظوری تک کا سفر
پاکستان نے اس بیان کا پہلا مسودہ 14 اکتوبر کو کونسل کے ارکان میں تقسیم کیا تھا۔ ارکان کی آراء کے بعد 23 اکتوبر کو پہلا نظر ثانی شدہ مسودہ، 29 اکتوبر کو دوسرا مسودہ پیش کیا گیا اور اسے خاموشی کے طریقہ کار کے تحت رکھا گیا۔ امریکا کی جانب سے خاموشی توڑنے کے بعد 3 نومبر کو تیسرا نظر ثانی شدہ مسودہ پیش ہوا، جو 4 نومبر کو خاموشی کا مرحلہ عبور کر گیا۔ اس طرح پانچ نومبر کو کونسل نے اسے اتفاق رائے سے اپنا لیا۔
صدارتی بیان کی حیثیت کیا ہے
صدارتی بیان کونسل کے 15 ارکان کی متفقہ رائے کا رسمی اظہار ہوتا ہے، تاہم قرارداد کے برعکس یہ قانونی طور پر پابند نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اس کی سیاسی اور سفارتی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ یہ کونسل کے اجتماعی موقف کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان 2025-26 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور اس دوران اس نے پرامن تصفیے اور سفارتکاری کے موضوع پر مسلسل کام کیا ہے۔
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اہمیت
یہ منظوری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اسی روز ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کی خبر دی تھی اور برطانیہ کی بحری نگرانی کے ادارے نے قطر کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر پر حملے کی تصدیق کی تھی۔ اسی دن اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی اور دونوں نے مسلسل مذاکرات اور تعمیری رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ مبصرین کے مطابق ایسے ماحول میں سفارتکاری کے کردار پر کونسل کا متفقہ بیان پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ جنگ کے دوران بھی بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
اگلے مرحلے میں دیکھا جائے گا کہ آیا کونسل کے ارکان اس بیان کو جاری تنازعات میں جنگ بندی کی کوششوں کے لیے استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ پاکستان کے مستقل مندوب سید حیدر شاہ نے منظوری کے بعد کونسل میں پریس سے بھی بات کی۔
مزید عالمی خبروں کے لیے دیکھیں: آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کو نقصان، تیل کی قیمت گر گئی اور شیخ حسینہ: دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی، ہر قیمت پر
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان بذریعہ اردو پوائنٹ (5 نومبر 2026)، بزنس ریکارڈر (5 نومبر 2026)، یورپ سیز (5 نومبر 2026) — خبر این ٹی ایم نیوز نے اپنی الفاظ میں لکھی ہے۔