پاکستان برطانیہ تعاون: سلامتی تجارت ہجرت پر اتفاق

0

پاکستان اور برطانیہ نے سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ہجرت، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اتفاق 5 نومبر کو اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور برطانیہ کے وزیر مملکت برائے سلامتی ڈین جاروس کی ملاقات میں ہوا۔

ملاقات میں کیا طے ہوا

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان برطانیہ تعلقات کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا، اور آر فور پلس ای فور فریم ورک کے تحت مزید تعاون پر بات چیت ہوئی۔

آر فور پلس ای فور فریم ورک میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی شامل ہیں۔ یہ گروپ گزشتہ ماہ استنبول میں بھی ملا تھا۔ تاہم دفتر خارجہ کے بیان میں ملاقات کے نتیجے میں کسی مخصوص نئے معاہدے، سرمایہ کاری کے وعدے یا عمل درآمد کی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی پر مشترکہ تشویش

ملاقات سے ایک روز قبل پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اسلام آباد میں سالانہ دوطرفہ انسداد دہشت گردی مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

حالیہ مہینوں میں سفارتی رابطے

جاروس کا دورہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اکتوبر میں برطانیہ کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور اسٹیفن ڈاؤٹی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں معاشی ترقی، تجارت، علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی، تعلیم اور ہجرت پر بات ہوئی تھی، جن میں غیر قانونی ہجرت روکنے پر بھی زور دیا گیا تھا۔

اس سے قبل 27 اگست کو اسحاق ڈار نے لندن میں برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے وفود کی سطح پر مذاکرات کیے تھے، جبکہ 23 اکتوبر کو استنبول میں بھی دونوں کی ملاقات ہوئی تھی، جس میں دوطرفہ تعلقات کی موجودہ حالت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔

پاکستان برطانیہ تعلقات کا پس منظر

پاکستان اور برطانیہ 2011 سے اینہانسڈ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے تحت رابطے میں ہیں، جس میں تجارت، معاشی ترقی، ثقافتی تعاون، سلامتی اور تعلیم شامل ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی نژاد شہریوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہجرت اور سلامتی کے امور دونوں ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کی سفارتکاری کے لیے یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سلامتی کونسل نے پاکستان کی سفارتکاری تجویز منظور کر لی ہے۔ علاقائی سلامتی پر پاکستان کے موقف کو بین الاقوامی سطح پر توجہ مل رہی ہے، جبکہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج بھی عالمی سیاست پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

دونوں ممالک نے آر فور پلس ای فور فریم ورک کے تحت مزید ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ سلامتی اور ہجرت کے شعبوں میں عملی تعاون کے لیے اگلے مراحل کا اعلان آئندہ مذاکرات میں متوقع ہے۔

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، آج انگریزی (5 نومبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *