امریکا: ڈیموکریٹس نے کانگریس جیت لی، ٹرمپ نے شکست مان لی
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں پر قبضہ کر لیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پارٹی کی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ریپبلکن امیدواروں کو نقصان پہنچایا۔
منگل 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ریپبلکن گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے کم از کم 54 نشستیں حاصل کر لیں جبکہ ایوان نمائندگان میں انہیں 30 سے زائد نشستوں کا فائدہ ہوا۔ الاسکا اور مسی سیپی کی سینیٹ نشستوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں، جن سے ڈیموکریٹس کی اکثریت 56 تک بڑھ سکتی ہے۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی تاریخی جیت
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس نے دہائیوں بعد سینیٹ کی نشست جیت لی اور تین بار کے گورنر گریگ ایبٹ کو بھی شکست دے دی۔ اسی طرح جنوبی کیرولائنا، کنساس، اوہائیو اور آئیووا جیسی ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی نشستیں چھین لیں — یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں دوہرے ہندسوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔
ایگزٹ پولز کے مطابق ملک بھر میں نصف ووٹرز نے انتخابات کو صدر کے خلاف احتجاج کا موقع سمجھا، جبکہ تین چوتھائی ووٹرز نے کہا کہ وہ ملک کی سمت سے ناراض یا غیر مطمئن ہیں۔ مہنگائی اور ایران جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ووٹرز کی ناراضی کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران جنگ کو شکست کی وجہ مانا
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ان کی پارٹی کی شکست میں کردار ادا کیا۔ ان کے الفاظ میں، “میرے خیال میں اس کا ایک حصہ ایران تھا۔” تاہم انہوں نے جنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ کرنا پڑے تو وہ پھر یہی کریں گے، کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیا جا سکتا۔ مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ پر ٹرمپ کا اعتراف
نائب صدر جے ڈی وینس نے اس سے بھی واضح انداز میں کہا: “ہمیں شکست کی وجہ جنگ ہے۔” وینس 2028 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین سمجھے جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے نتائج قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ وہ “پاگل پن” والے بلوں کو ویٹو کر دیں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر یہ بھی لکھا کہ اگر وہ خود بیلٹ پر ہوتے تو ریپبلکنز “بڑے فرق سے” جیت جاتے۔
مارکیٹوں میں تیزی، تیل سستا
انتخابات کے نتائج پر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آئی۔ ڈاؤ جونز انڈیکس میں 1,569 پوائنٹس یعنی 3 فیصد کا اضافہ ہوا — یہ 1982 کے بعد وسط مدتی انتخابات کے بعد کا بہترین دن رہا۔ ایس اینڈ پی 500 میں بھی 1.58 فیصد کا اضافہ ہوا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی آئی کیونکہ تاجروں کو توقع ہے کہ ڈیموکریٹس کی زیر قیادت کانگریس ایران جنگ کے خاتمے پر دباؤ ڈالے گی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 8.7 فیصد کمی ہوئی اور یہ تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو دو ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ مزید پڑھیں: خامنہ ای: نئی امریکی جارحیت کا جواب بڑا ہوگا
ڈیموکریٹس کے اگلے اقدامات
ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ نئی اکثریت مہنگائی کم کرنے اور احتساب پر توجہ دے گی۔ ڈیموکریٹس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف سخت نگرانی کی مہم شروع کریں گے، جس میں کانگریسی سماعتوں اور ممکنہ طلبیوں کا سلسلہ شامل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئی کانگریس میں ایوان میں ریپبلکنز کی قیادت کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے۔
جارجیا میں ڈیموکریٹ کیشا لانس باٹمز کسی امریکی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئیں۔
آگے کیا ہوگا؟
ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے ساتھ ٹرمپ کو اپنے آخری دو سالوں میں پہلی بار ڈیموکریٹک کانگریس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے، بالخصوص ٹیکس اور اخراجات کے معاملات پر، رکاوٹیں پیدا ہوں گی، تاہم ٹرمپ کے پاس ویٹو کا اختیار برقرار ہے۔
دونوں ایوانوں نے پہلے ہی ایران جنگ کے خاتمے اور ایپسٹین فائلوں کے اجرا کے حق میں ووٹ دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی کانگریس خارجہ پالیسی پر بھی ٹرمپ انتظامیہ کو چیلنج کر سکتی ہے۔
ماخذ: رائٹرز، سی این این، یو ایس اے ٹوڈے — 5 نومبر 2026