کیمرہ والے سمارٹ گلاسز کی درآمد پر پابندی

0

کیمرہ والے سمارٹ گلاسز کی پاکستان میں درآمد مشکل ہونے جا رہی ہے — اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 4 نومبر کو ان آلات کی درآمد پر پابندیوں کی منظوری دے دی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ پابندی مکمل ہوگی، لائسنس درکار ہوگا یا ڈیوٹی بڑھائی جائے گی۔

یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں ہوا۔ اجلاس کی سرکاری سمری ریڈیو پاکستان نے جاری کی، جس میں گلاسز کا ذکر صرف دو سطروں میں کیا گیا — نہ پابندی کی نوعیت بتائی گئی، نہ کسٹمز نوٹیفکیشن کا ذکر ہوا اور نہ ہی اطلاق کی تاریخ سامنے آئی۔

پنجاب پہلے ہی قدم اٹھا چکا

وفاقی فیصلے سے پہلے پنجاب حرکت میں آ چکا تھا۔ اکتوبر میں صوبے کے محکمہ داخلہ نے دفعہ 144 کے تحت کیمرہ والے سمارٹ گلاسز پہننے اور فروخت کرنے پر 30 روز کی پابندی لگا دی تھی۔ اس حکم میں قلم یا چابی کے حلقے میں چھپے کیمرے بھی شامل تھے۔

پنجاب کے حکم میں ہوائی اڈوں، امتحانی ہالوں، اسپتالوں، مالز، عدالتوں اور سرکاری عمارتوں کو حساس مقامات قرار دیا گیا۔ پی ٹی اے سے منظور شدہ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ اس پابندی سے باہر ہیں، اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی مستثنیٰ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اصل تشویش خفیہ ریکارڈنگ ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی۔

خفیہ ریکارڈنگ کا خدشہ

میٹا کے رے بین سمارٹ گلاسز جیسے آلات فریم میں لگے کیمروں سے تصاویر اور ویڈیو ریکارڈ کرتے ہیں، اور ریکارڈنگ کے دوران صرف ایک چھوٹی سی ایل ای ڈی لائٹ جلتی ہے — یہی واحد نشانی ہے۔ پنجاب کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ آلات آواز، تصویر، ویڈیو اور گفتگو ریکارڈ کر کے آگے بھیج سکتے ہیں، جو عوامی نظم، ذاتی پرائیویسی اور حساس مقامات کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

عدالت کا مقدمہ بھی پس منظر میں

وفاقی قدم کے پیچھے ایک عدالتی مقدمہ بھی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کیمرہ اور مائیکروفون والے گلاسز کی بلا روک ٹوک درآمد اور فروخت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میٹا کے گلاسز لاہور میں دکانوں اور آن لائن کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں، حالانکہ میٹا کی پاکستان میں کوئی سرکاری مارکیٹ موجود نہیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے، جس پر اب ای سی سی نے غور کیا ہے۔

صارفین کے لیے کیا مطلب ہے؟

جو لوگ یہ گلاسز خرید چکے ہیں یا خریدنے کا سوچ رہے ہیں، ان کے لیے عملی اثر ابھی آنے والے نوٹیفکیشن پر منحصر ہے۔ سرکاری سمری میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پہلے سے موجود گلاسز کا کیا ہوگا۔ پنجاب کا 30 روزہ حکم درآمدی پابندی سے الگ اقدام ہے اور جب تک صوبہ اسے واپس نہ لے، نافذ رہے گا۔

ای سی سی نے صوبوں اور اسلام آباد سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کام کی جگہوں پر ان آلات کے استعمال کے اپنے قواعد بنائیں — یعنی آئندہ آجر بھی اس بارے میں اپنی پالیسی طے کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3665
مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3737

ماخذ: ٹیک پرولانگڈ اور ریڈیو پاکستان، 5 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *