کراچی کال سینٹر کیس: 9 ملزمان کا 2 روزہ ریمانڈ
کراچی کے کال سینٹر چھاپے کے کیس میں عدالت نے 9 اہم ملزمان کو 2 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ گرفتار خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق چھاپے کے دوران مجموعی طور پر 273 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں 100 سے زائد خواتین اور 42 نابالغ بھی شامل ہیں۔
عدالت میں کیا ہوا
گرفتار ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ گلریز میمن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے 9 اہم ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا، جبکہ خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کو 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ باقی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ سندھ محکمہ داخلہ نے کال سینٹر کی عمارت کو سب جیل قرار دے دیا ہے، جہاں گرفتار افراد کو رکھا گیا تھا۔
دفاعی وکیل نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ گرفتار افراد میں 70 سے زائد نابالغ ہیں، تاہم ایجنسی کے مطابق نابالغوں کی تعداد 42 ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید تفتیش جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
چھاپہ کیسے مارا گیا
عینی شاہدین کے مطابق این سی سی آئی اے نے 3 نومبر کی رات تقریباً 8 سے 9 بجے کے درمیان شاہراہ فیصل کے قریب پی ای سی ایچ ایس میں واقع کال سینٹر ووکسٹرون پر چھاپہ مارا۔ این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے 5 نومبر کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی مالیاتی فراڈ کے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ تھی۔
چھاپے کے دوران ضبط کیے گئے سامان کی تعداد کے بارے میں رپورٹس میں فرق ہے۔ ڈان اور اے آر وائی نیوز کے مطابق 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور 4 کمپیوٹر ضبط کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے نے لیپ ٹاپ کی تعداد 3,390 بتائی ہے۔
ملزمان پر کیا الزامات ہیں
این سی سی آئی اے کے مطابق کال سینٹر سے غیر ملکی شہریوں کو جعلی شناختوں اور گمراہ کن فون کالز کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ کریڈٹ کارڈ اسکیموں اور کم شرح سود پر قرضوں کی پیشکش کر کے زیادہ تر ریٹائرڈ غیر ملکی شہریوں سے دھوکا دہی کر رہے تھے۔ ایجنسی کے مطابق یہ مبینہ فراڈ ایک سال سے زائد عرصے میں اربوں ڈالر تک پہنچا۔
ملزمان کے خلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات 3، 4، 13، 14، 16 اور 26 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں غیر مجاز رسائی، الیکٹرانک جعلسازی، الیکٹرانک فراڈ اور شناخت کے غیر مجاز استعمال کے الزامات شامل ہیں۔ یہ تمام الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے اور تفتیش جاری ہے۔
کراچی میں جعلی کال سینٹرز کا نیٹ ورک
شہزاد اکبر کے مطابق کراچی میں تقریباً 350 کال سینٹرز اس وقت فراڈ میں ملوث ہیں اور ووکسٹرون ان میں سرفہرست تین میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کال سینٹر میں بیرون ملک مقیم افراد کی شمولیت کا بھی شبہ ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ کال سینٹر کئی سال سے کام کر رہا تھا اور اس پر 2025 میں بھی چھاپہ مارا جا چکا ہے۔ اس سے قبل کراچی کال سینٹر چھاپے کے بعد شاہراہ فیصل پر احتجاج بھی ہوا تھا، جب گرفتار افراد کے اہل خانہ نے سڑک بلاک کر دی تھی۔ این سی سی آئی اے اس سے قبل جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ کیس میں بھی کارروائی کر چکی ہے۔
آگے کیا ہوگا
9 اہم ملزمان کا 2 روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ایجنسی مزید ریمانڈ یا چالان کی درخواست کر سکتی ہے۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے بیرون ملک رابطوں اور رقم کی منتقلی کے راستوں کی تحقیقات جاری ہیں۔
ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز (5 نومبر 2026)