ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو فائیو اسٹار ہوٹل بنے گا
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے متنازع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ 4 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ نے منصوبے میں بے ضابطگیوں پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظور کر لی ہے اور عمارت اب قانونی طور پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ملکیت بن چکی ہے۔
ہوٹل کب اور کیسے بنے گا
محسن نقوی نے کہا کہ “ہم اس عمارت کو آنے والے مہینوں میں فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کریں گے، جو اس کا بنیادی مقصد تھا۔” ان کے مطابق اسلام آباد میں ہوٹلوں کی شدید کمی ہے اور جلد کسی بڑی بین الاقوامی ہوٹل چین کے ساتھ معاہدے پر دستخط کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم ابھی تک نہ ہوٹل چلانے والی کمپنی کا نام بتایا گیا ہے، نہ تبدیلی کی لاگت اور نہ جے آئی ٹی رپورٹ جاری کرنے کی تاریخ دی گئی ہے۔
جے آئی ٹی کو کیا ملا
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اطلاعات کے وزیر عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ بتایا کہ جے آئی ٹی میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل تھے۔ تحقیق کے مطابق منصوبے کی بولی میں ہیرا پھیری کی گئی، قواعد میں نرمی کر کے ایک ایسی کمپنی کو لیز دی گئی جو میرٹ پر اہل نہیں تھی، اور ڈویلپر کی سہولت کے لیے بینک گارنٹی کی شرط بھی ختم کر دی گئی۔ سی ڈی اے کو نہ صرف غفلت بلکہ بے ضابطگیوں میں ملوث پایا گیا۔
جے آئی ٹی کے مطابق منصوبے کے مبینہ سرغنہ عبدالحفیظ شیخ ہیں، جنہوں نے سی ڈی اے افسران کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر یہ منصوبہ بندی کی۔ رپورٹ میں سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری، ڈاکٹر فیصل اعوان، اظہر علی چوہدری، ریٹائرڈ بریگیڈیئر نصر اللہ اور مرحوم رائے نواز کھرل کا نام بھی آیا ہے۔ یہ تمام الزامات ہیں، کسی کے خلاف ابھی عدالت سے سزا کا فیصلہ نہیں ہوا۔
کابینہ کے فیصلے اور اگلے اقدامات
کابینہ نے جے آئی ٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی، ڈویلپر کو بلیک لسٹ کرنے اور متاثرہ سرمایہ کاروں کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ معاملہ مزید تفتیش کے لیے نیب کو بھیجا جائے گا اور نیب کی تحقیقات تین ماہ میں مکمل کر کے ٹرائل شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ منصوبے کا نام تبدیل کیا جائے، کیونکہ “ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو” کا عنوان مبینہ طور پر دھوکا دہی سے حاصل کیا گیا تھا۔ محسن نقوی نے یقین دلایا کہ معاوضے کے حقدار ہر شخص کو اس کا حق ملے گا۔
منصوبے کی دو دہائی پرانی کہانی
سی ڈی اے نے 2004-05 میں یہ 13.5 ایکڑ کا پلاٹ 4.8 ارب روپے میں نیلام کیا تھا، جس پر فائیو اسٹار ہوٹل اور سروسڈ اپارٹمنٹس بننے تھے۔ بعد میں اسے رہائشی اپارٹمنٹس اور کمرشل جگہوں میں بدل کر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر فروخت کر دیا گیا، جس پر طویل قانونی تنازع کھڑا ہوا۔ ادائیگیوں میں نادہندگی پر سی ڈی اے نے لیز منسوخ کر دی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپریل 2026 میں یہ فیصلہ برقرار رکھا اور مئی میں رہائشیوں کو بے دخل کر دیا گیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، جسے 60 روز میں رپورٹ دینا تھی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہوٹل کی تبدیلی کب شروع ہوتی ہے اور متاثرہ خریداروں کو معاوضہ کب ملتا ہے، کیونکہ دونوں معاملات پر ابھی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔
مزید خبریں: سی ایس ایس ایم پی ٹی 2027 کا نتیجہ جاری اور دس روپے کا نوٹ ختم، سکہ آئے گا
ماخذ: ڈان (5 نومبر 2026)، ایکسپریس ٹریبیون (4 نومبر 2026)، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان بذریعہ اردو پوائنٹ (4 نومبر 2026)، پاکستان ٹوڈے (4 نومبر 2026) — خبر این ٹی ایم نیوز نے اپنی الفاظ میں لکھی ہے۔