دس روپے کا نوٹ ختم، سکہ آئے گا، نئے نوٹوں کے ڈیزائن منظور
وفاقی کابینہ نے دس روپے کے کاغذی نوٹ کی جگہ اسی مالیت کا سکہ لانے کی منظوری دے دی ہے اور نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن بھی منظور کر لیے ہیں۔ فیصلہ بدھ 4 نومبر کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
کابینہ نے کیا فیصلہ کیا
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کی منظوری دی۔ اسی اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کی سیریز کے ڈیزائن بھی منظور کیے گئے۔ بزنس ریکارڈر اور پروپاکستانی کی رپورٹس کے مطابق منظور شدہ ڈیزائن 50، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹوں کے لیے ہیں، جب کہ دس روپے کی مالیت اب سکے کی صورت میں جاری ہوگی۔
کابینہ کو اجلاس میں نئے نوٹوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ ملک بھر کے فنکاروں اور ڈیزائنرز سے تجاویز طلب کی گئی تھیں اور وزیر اعظم کی قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد سفارشات تیار کیں۔ نئے نوٹوں میں جعل سازی روکنے کے لیے جدید حفاظتی خصوصیات ہوں گی اور وہ جدید مواد پر چھپیں گے تاکہ ان کی زندگی لمبی ہو۔
پرانے نوٹ کب تک چلیں گے
حکومت نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ دس روپے کا موجودہ نوٹ کب سے قانونی حیثیت کھوئے گا اور نہ ہی پرانے نوٹ بدلنے کی کوئی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نئے نوٹوں کے اجرا اور پرانے ڈیزائن واپس لینے کا شیڈول مرحلہ وار جاری کرے گا۔ موجودہ نوٹ فی الحال معمول کے مطابق چلتے رہیں گے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے ستمبر میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ان خبروں کی تردید کی تھی کہ دس روپے کا نوٹ بند کیا جا رہا ہے۔ اس وقت مرکزی بینک نے کہا تھا کہ نئے نوٹوں کی سیریز پر غور جاری ہے اور کسی بھی نوٹ کی واپسی کا فیصلہ باقاعدہ اعلان کے ساتھ کیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک نے یہ تجویز کیوں دی تھی
دس روپے کا نوٹ ختم کرنے کی تجویز اسٹیٹ بینک کی طرف سے آئی تھی۔ اگست میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا تھا کہ دس روپے کے نوٹ کی چھپائی مہنگی ہوتی جا رہی ہے، اس لیے نئے کرنسی نوٹوں کی سیریز آنے کے بعد دس روپے کا نوٹ واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ نئے نوٹوں کو گردش میں لانے میں تقریباً ایک سال لگ سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کی سیریز ڈیزائن کرنے کا عمل جنوری 2024 میں شروع کیا تھا۔ دس روپے کا نوٹ اس وقت گردش میں موجود سب سے چھوٹی کاغذی مالیت ہے جو 2005 میں شروع ہونے والی سیریز میں شامل نہیں ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دس روپے کا سکہ نیا خیال نہیں — اسٹیٹ بینک 24 اکتوبر 2016 کو بھی دس روپے کا سکہ جاری کر چکا ہے، جس پر فیصل مسجد کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
آگے کیا ہوگا
اب سب کی نظریں اسٹیٹ بینک پر ہیں کہ وہ نئے نوٹوں کے اجرا اور پرانے نوٹوں کی واپسی کا شیڈول کب جاری کرتا ہے۔ کابینہ کے فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ نئے ڈیزائن والے نوٹ آ رہے ہیں، لیکن پرانے نوٹ فوری طور پر بند نہیں ہوں گے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صرف اسٹیٹ بینک کے باقاعدہ اعلان کا انتظار کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔
مزید پڑھیں: پیٹرول 7.06 روپے سستا، نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر https://ntmnews.online/?p=3685 اور سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 26 ہزار روپے https://ntmnews.online/?p=3735
ماخذ: بزنس ریکارڈر (4 نومبر 2026)، آج انگریزی (5 نومبر 2026)، پروپاکستانی (4 نومبر 2026)