شیخ حسینہ: دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی، ہر قیمت پر
بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ سزائے موت کے باوجود دسمبر میں ہر قیمت پر جلاوطنی سے وطن واپس جائیں گی۔ انہوں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو ای میل کے ذریعے دیے گئے جوابات میں کہا کہ ان کا یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوا۔
حسینہ نے کیا کہا؟
شیخ حسینہ نے اے پی سے گفتگو میں کہا: “اگر موت ہی میری قسمت ہے تو میں اپنے ملک کی مٹی پر، اپنے لوگوں کے درمیان مرنا پسند کروں گی۔ اس لیے میں بنگلہ دیش واپس جاؤں گی۔ یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، قید کیا جا سکتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے الفاظ میں: “میں ان تمام امکانات سے پوری طرح آگاہ ہوں، لیکن میں اپنی باقی زندگی اپنے لوگوں کو دور سے تکلیف میں دیکھتے ہوئے نہیں گزار سکتی۔”
اے پی نے سوالات گزشتہ ہفتے بھیجے تھے اور حسینہ نے بدھ کو ان کے جوابات دیے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بھارت سے بنگلہ دیش کیسے واپس جائیں گی۔
سزائے موت اور پس منظر
شیخ حسینہ 2009 سے 2024 تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہیں۔ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے بڑے احتجاج کے بعد انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا اور وہ بھارت فرار ہو گئیں، جہاں وہ تب سے جلاوطنی میں ہیں۔
2025 میں ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ مظاہرین پر ہونے والے کریک ڈاؤن کا حکم دینے کی ذمہ دار تھیں، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حسینہ نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے، عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔
بنگلہ دیش نے حسینہ کی حوالگی کی بار بار درخواست کی ہے، لیکن بھارت نے انہیں حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ حسینہ نے پہلی بار اگست میں دسمبر میں واپسی کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال
حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے عبوری انتظامیہ کی قیادت سنبھالی اور ملک کو اگلے 18 ماہ تک چلایا۔ فروری میں سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور حسینہ کے دیرینہ سیاسی حریف طارق رحمان نے یونس انتظامیہ کے تحت ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹس مزدوروں کے احتجاج اور ویج بورڈ کے معاملے پر بھی حال ہی میں خبر شائع ہوئی تھی۔
حسینہ کی مجوزہ واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ان کی جماعت کا مستقبل غیر یقینی ہے اور اس پر وسیع کریک ڈاؤن جاری ہے۔ جماعت پر پابندی برقرار ہے، اس کے سینئر رہنما گرفتار یا جلاوطن ہیں۔ حسینہ نے الزام لگایا ہے کہ اگست 2024 سے اب تک کم از کم 20,000 جماعتی ارکان قتل کیے گئے ہیں، جبکہ ہزاروں گرفتار، تشدد کا شکار یا روپوش ہیں۔ یہ اعداد ان کے اپنے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حامیوں کے گھر، کاروبار اور روزگار بھی سیاسی وابستگی کی وجہ سے چھینے گئے۔
ان کے مطابق ملک میں “کوئی معمول کی سیاسی یا جمہوری صورتحال نہیں ہے” اور حکام جماعت کو منظم طریقے سے دبا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں بشمول ہیومن رائٹس واچ نے حالیہ مہینوں میں رحمان حکومت پر شہری و سیاسی حقوق پر حملوں کی تنقید کی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں مخصوص الزامات پر کی جا رہی ہیں۔
غیر ملکی دباؤ پر حسینہ کا موقف
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ اور بھارت جیسے ممالک سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ ان کی محفوظ واپسی کے لیے بنگلہ دیش پر دباؤ ڈالیں، تو حسینہ نے کہا کہ وہ غیر ملکی تحفظ نہیں چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا: “میں تمام اقوام کے ساتھ دوستی اور تعاون کی قدر کرتی ہوں، یہ ہمیشہ سے ہماری خارجہ پالیسی رہی ہے، لیکن مجھے اپنے ملک واپس جانے کے لیے کسی غیر ملکی طاقت کی اجازت کی ضرورت نہیں۔”
حسینہ نے بنگلہ دیش میں شدت پسند عناصر کے بڑھتے ہوئے اثر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی ماحول نے انتہا پسند عناصر کو زیادہ پراعتماد بنا دیا ہے۔ عالمی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین نے بھی عبوری انتظامیہ کے دوران لبرل قوتوں کو دبانے کی کوشش کرنے والے بنیاد پرست گروہوں کے عروج پر تشویش ظاہر کی تھی، جبکہ اقلیتی گروہوں نے بھی دھمکیوں کی شکایت کی۔ یونس کی زیر قیادت حکومت نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
آگے کیا ہوگا؟
شیخ حسینہ نے واپسی کا طریقہ کار ظاہر نہیں کیا، اور ڈھاکہ پہنچتے ہی ان کی گرفتاری کا امکان ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے دفتر کے پریس ونگ نے اے پی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ دسمبر قریب آتے ہی اس اعلان پر علاقائی اور عالمی سطح پر توجہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج (https://ntmnews.online/?p=3724) کے بعد عالمی سیاست میں پہلے ہی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور حسینہ کی واپسی کا اعلان جنوبی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اور اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماخذ: The Associated Press، The Week، Economic Times اور New Indian Express — 5 نومبر 2026