شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ، کروز میزائل مشق بھی
شمالی کوریا نے بدھ کے روز نئے ڈیزائن کردہ فضائی دفاعی میزائل نظام کا تجربہ کیا اور ساتھ ہی طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل سے حملے کی مشق بھی کی۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے جمعرات کو ان دونوں تجربوں کی تصدیق کی۔ جنوبی کوریا کی فوج نے بھی بدھ کو ملک کے مشرقی ساحلی علاقے سونڈوک سے سمندر کی طرف کئی میزائل داغے جانے کی تصدیق کی تھی۔
نیا فضائی دفاعی نظام کیا ہے؟
کے سی این اے کے مطابق نئے فضائی دفاعی میزائل نظام کا تجربہ اس کی تکنیکی خصوصیات کی تصدیق کے لیے کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق تجربے نے میزائل کے نئے مواد اور ذہین ملٹی پل گائیڈڈ موڈ کی تکنیکی خصوصیات اور اعتماد کو ثابت کیا۔ ایجنسی نے مزید کہا کہ اس نظام نے اہداف کی شناخت اور ان کی نگرانی کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ڈیٹیکشن ڈیٹا پروسیسنگ ڈیوائس کی اعتمادیت بھی ثابت کی۔
جنوبی کوریا کے دفاعی ماہر شن جونگ وو کے مطابق نیا فضائی دفاعی میزائل پہلی بار نومبر 2025 میں منظر عام پر آیا تھا، اور اس کا گائیڈنس والا حصہ روس کے ایس 400 سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام سے مشابہت رکھتا ہے۔ تاہم یہ تجزیہ ماہر کی رائے ہے، شمالی کوریا نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔
کروز میزائل کی مشق
کے سی این اے کے مطابق مشرقی شمالی کوریا میں تعینات طویل فاصلے کے اسٹریٹجک کروز میزائل یونٹ کی ایک فائر پاور ذیلی یونٹ نے بدھ کو ہی حملے کی مشق کی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یونٹ نے طویل فاصلے کے اسٹریٹجک کروز میزائل سے ایک فرضی ہوائی اڈے کے ہدف کو نشانہ بنانے کا مشن مکمل طور پر انجام دیا۔
جنوبی کوریا کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق بدھ کو داغے گئے میزائلوں نے 300 کلومیٹر سے کم فاصلہ طے کیا، اور امریکی حکام کے ساتھ مل کر ان کا تجزیہ جاری ہے۔ ماہر شن جونگ وو کے مطابق پیانگ یانگ کی جاری کردہ تصاویر میں کروز میزائل پر کلسٹر وار ہیڈ لگا ہوا نظر آ رہا تھا، تاہم یہ بھی ماہر کا تجزیہ ہے، سرکاری تصدیق نہیں۔
تجربوں کا سلسلہ اور پس منظر
کے سی این اے کے مطابق دونوں مشقوں کا مقصد ہتھیاروں کے نظام کو تکنیکی طور پر اعلیٰ سطح پر برقرار رکھنا اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کی جنگی اعتمادیت بہتر بنانا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں شمالی کوریا نے ہتھیاروں کے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جن میں کلسٹر گولہ بارود، حملہ آور ڈرون، درست نشانے والا ٹارپیڈو نظام اور درمیانی فاصلے کا ہائپرسونک میزائل شامل ہیں۔
اس سے قبل 4 نومبر کو بھی شمالی کوریا نے سونڈوک سے مشرقی سمندر کی طرف کئی میزائل داغے تھے، جس کے بارے میں شمالی کوریا کے گزشتہ میزائل تجربے کی خبر (https://ntmnews.online/?p=3613) میں تفصیل دی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے تحت بیلسٹک میزائل تجربے ممنوع ہیں، لیکن کروز میزائل تجربے ان پابندیوں کی زد میں نہیں آتے۔
سیاسی پس منظر میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پیانگ یانگ نے جنوبی کوریا اور امریکہ کے تئیں اپنا رویہ سخت کر لیا ہے، بارودی سرنگوں کے تنازعے پر بین الکوریائی تعلقات خراب ہوئے ہیں، اور رہنما کم جونگ ان کی بااثر بہن کم یو جونگ نے اس ہفتے امریکہ سے مذاکرات کی بحالی میں کم دلچسپی کا اشارہ دیا ہے۔ شمالی کوریا نے ماضی میں امریکی انتخابات کے ارد گرد بھی میزائل تجربے کیے ہیں، جنہیں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
جنوبی کوریا اور امریکہ بدھ کے تجربوں کا تجزیہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شمالی کوریا نے اپنے ہتھیاروں کے نظام کی مسلسل بہتری کا عزم ظاہر کیا ہے۔ خطے میں کشیدگی کے پیش نظر آنے والے دنوں میں مزید تجربوں کا امکان بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ شمالی کوریا کی جانب سے سائبر چوری کے الزامات کی تردید (https://ntmnews.online/?p=3447) پر بھی گزشتہ دنوں خبر شائع ہوئی تھی، جو دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کی ایک اور جھلک ہے۔
ماخذ: Malay Mail / AFP، Reuters اور Yonhap — 5 نومبر 2026