افغان باشندوں کی واپسی تیز: 14 لاکھ کو خطرہ

0

پاکستان نے افغان باشندوں کی واپسی کا عمل تیز کر دیا ہے اور اب ملک میں موجود تقریباً 14 لاکھ 20 ہزار افغان باشندوں کو ملک بدری کا سامنا ہے۔ اسلام آباد نے ملک بدری مہم کے نئے مرحلے میں گھر گھر تلاشی، دستاویزات کی سخت جانچ پڑتال اور جائیدادوں کی ضبطی سمیت سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔

نیا مرحلہ: گھر گھر تلاشی اور جائیدادوں کی ضبطی

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مہم کے نئے مرحلے میں ملک بھر میں افغان باشندوں کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی، جن میں گھر گھر تلاشی اور دستاویزات کی تصدیق شامل ہے۔ خیبر پختونخوا اس مہم کا مرکزی علاقہ بن گیا ہے، جہاں افغان مہاجرین کی تلاش کے لیے سرچ آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق افغان باشندوں کی جائیدادوں کی ضبطی بھی کی جا رہی ہے۔ حکام افغان طلبہ کی دوبارہ جانچ پڑتال کی بھی تیاری کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہم کا دائرہ غیر دستاویزی مہاجرین سے آگے بڑھ کر افغان آبادی کے وسیع تر حصے تک پھیل سکتا ہے۔

اب تک 27 لاکھ 90 ہزار افغان واپس جا چکے

پاکستان کی واپسی مہم کے تحت اب تک تقریباً 27 لاکھ 90 ہزار افغان باشندے وطن واپس جا چکے ہیں۔ یہ مہم اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری ہے اور 2023 میں اس میں تیزی آئی تھی۔ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اب تک واپس جانے والوں کی درست تعداد 28 لاکھ 7 ہزار 250 ہے، جن میں سے پنجاب سے ایک لاکھ 43 ہزار 474 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واپس جانے والوں میں سے صرف تقریباً 2 فیصد کو باقاعدہ طور پر ملک بدر کیا گیا، جبکہ اکثریت دیگر طریقوں سے واپس گئی۔

پنجاب میں کارروائیوں کی تفصیل

پنجاب میں مہم کے تحت اب تک رہائشی علاقوں اور بازاروں میں 4 لاکھ سے زائد سرچ آپریشن کیے جا چکے ہیں۔ صوبے میں 39 ہولڈنگ سینٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں اس وقت 153 افغان باشندے واپسی کے منتظر ہیں۔ افغان باشندوں کو غیر قانونی طور پر مکان کرائے پر دینے کے الزام میں 803 افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کی واضح پالیسی کے تحت بغیر درست ویزے کے مقیم تمام افغان باشندوں کا قیام غیر قانونی ہے۔

تعلقات میں کشیدگی کی وجہ

اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت عسکریت پسند گروپوں کو افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ کابل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کو پناہ نہیں دیتا۔ سرحدی جھڑپوں، پابندیوں اور سفارتی اختلافات نے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو مزید خراب کر دیا ہے، اور افغان باشندوں کی تیز واپسی کشیدگی کی ایک اور بڑی وجہ بن گئی ہے۔ طالبان حکام افغان مہاجرین کے ساتھ سلوک اور جبری واپسی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

امریکہ سے ملک بدری کا معاملہ بھی زیر بحث

اسی دوران امریکہ میں بھی افغان باشندوں کی ملک بدری کا معاملہ زیر بحث ہے۔ نیویارک کی وفاقی جج ویلری کیپرونی نے منگل کو ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا ہے جس کے تحت امریکہ میں زیر حراست افغان باشندوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جانا تھا۔ عدالت نے کہا ہے کہ امیگریشن حکام نے ہفتے کے آخر تک افغانستان یا پاکستان کے لیے کوئی پرواز طے نہیں کی ہے، اور یہ حکم 7 نومبر تک نافذ رہے گا۔

مزید پڑھیں: افغان واپسی: طورخم سے ایک دن میں 1145 افراد (https://ntmnews.online/?p=3465) اور پاکستان افغانستان سرحد: ریڈ لائن وارننگ (https://ntmnews.online/?p=3163)۔

ماخذ: نیوز 18، 4 نومبر 2026؛ عرب نیوز، 4 نومبر 2026؛ خیبر کرونیکلز، 4 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *