گورنر کنڈی: کے پی میں ایمرجنسی غیر معمولی حالات میں
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعرات 5 نومبر کو کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی غیر معمولی حالات میں نافذ کی گئی ہے، اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر صوبے کو امن، استحکام اور ترقی کی طرف لے جایا جائے گا۔ انہوں نے پشاور میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے جلد خاتمے کا اعتماد بھی ظاہر کیا۔
گورنر نے کیا کہا؟
گورنر کنڈی نے کہا کہ صوبے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ امن و استحکام اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صحافیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور صحافیوں کی مالی مشکلات، ان کی حفاظت اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت اور ریاست آپس میں جڑی ہوئی ہیں، کیونکہ میڈیا قوم کی تعمیر اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پولیس کے لیے اعلانات
گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی سہولیات بہتر بنائی جا رہی ہیں اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر کی جائیں گی۔ انہوں نے پولیس شہدا کے بچوں کے لیے ایک کیڈٹ کالج قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ یہ اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صوبے میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں اور سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہے۔
پشاور کے ترقیاتی منصوبے
گورنر کنڈی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے پشاور میں بین الاقوامی معیار کا اسٹیڈیم اور ہسپتال قائم کرنے میں ناکامی دکھائی۔ انہوں نے بتایا کہ ارباب نیاز اسٹیڈیم (عمران خان اسٹیڈیم) کی تزئین و آرائش، جو 2022 میں شروع ہوئی تھی، مکمل ہو چکی ہے، جب کہ عالمی معیار کے کھیلوں کی میزبانی کے قابل جدید بین الاقوامی اسٹیڈیم کی تعمیر کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے، جب کہ ناردرن بائی پاس اور رنگ روڈ کے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے گا تاکہ شہر میں ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہو۔
ماحول اور معدنیات
ماحولیاتی خدشات پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ درختوں کی بے تحاشا کٹائی نے جنگلات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جب کہ معدنیات کے ٹھیکے مقامی کمپنیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دینے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کوہاٹ کے علاقے شکردرہ میں غیر قانونی معدنیات نکالنے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
سیاسی صورتحال پر موقف
سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کو ایک قابل احترام سیاسی رہنما قرار دیا اور زور دیا کہ تعمیری تنقید جمہوری حق ہے، لیکن سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلنے دیا جانا چاہیے۔
پس منظر
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد گورنر نے صوبائی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اسی سلسلے میں 4 نومبر کو جاری کردہ وفاقی حکم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 140-A کی معطلی پورے صوبے تک بڑھا دی گئی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دی ہیں۔
مزید پڑھیں: کرم میں دراندازی ناکام، افغان طالبان کی چوکیوں کو نقصان — https://ntmnews.online/?p=3773 اور پنجاب بلدیاتی انتخابات 7 فروری کو، کے پی میں ملتوی — https://ntmnews.online/?p=3710
ماخذ: ڈان کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹ کی بنیاد پر۔