بلوچستان سمیت ملک بھر میں 6 افراد کے مبینہ لاپتہ ہونے پر تشویش
بلوچستان، پنجاب اور اسلام آباد میں چار بلوچ طلبہ سمیت چھ افراد کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے پر حقوق کی تنظیموں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ واقعات الگ الگ مقامات پر پیش آئے اور متاثرہ خاندانوں کے مطابق ان افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کو یا تو بازیاب کرایا جائے یا عدالت میں پیش کیا جائے۔
پنجگور اور کوئٹہ کے واقعات
بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجگور کے علاقے پاروم سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ دکاندار رحمدل بلوچ کو مبینہ طور پر 24 اکتوبر کو فرنٹیئر کور اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے ایف سی کیمپ سے لے جایا تھا اور تب سے ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا ہے۔ ایک اور واقعے میں 23 سالہ طالب علم حزب اللہ لانگو کو مبینہ طور پر 12 جولائی کو کوئٹہ کی ایئرپورٹ روڈ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا اور وہ بھی تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ تمام الزامات حقوق تنظیموں اور مقامی رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اسلام آباد اور بہاولپور میں طلبہ
رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ طالب علم کو مبینہ طور پر 30 اکتوبر کو اسلام آباد کے سینٹورس مال سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اسی طرح اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بیچلر آف ایجوکیشن کے طالب علم ثقلین بلوچ کو مبینہ طور پر 29 اکتوبر کو حاصلپور روڈ پر جاپان ٹاؤن کے باہر رکشے سے اتار کر لے جایا گیا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کا الزام ہے کہ ریاستی اداروں سے منسلک اہلکاروں نے انہیں زبردستی لے جایا۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور حکام سے بار بار رابطے کے باوجود کوئی معلومات نہیں ملیں اور تاحال کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہوا ہے۔
پانچ سال سے لاپتہ دو طلبہ کا معاملہ
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر اپنا احتجاج 6405ویں روز بھی جاری رکھا۔ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ یکم نومبر کو یونیورسٹی آف بلوچستان کے دو طلبہ سہیل احمد اور محمد فصیح اللہ شاہ کے لاپتہ ہوئے پانچ سال مکمل ہو گئے۔ دونوں پاکستان اسٹڈیز کے طلبہ تھے اور 2021 میں یونیورسٹی سے لاپتہ ہوئے تھے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو 30 روز میں رہا کرنے یا عدالت میں پیش کرنے کی یقین دہانی پر عمل نہیں ہوا اور پانچ سال گزرنے کے باوجود کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
حقوق تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ تمام مبینہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ان کے اہل خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ پنجگور میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف حالیہ کارروائی کی تفصیل پنجگور کارروائی والی خبر میں پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ بلوچستان کی دیگر خبروں کے لیے بلوچستان پولیو مہم بھی ملاحظہ کریں۔
ماخذ: دی ٹریبیون (اے این آئی) اور بلوچستان پوسٹ کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹس۔ تمام الزامات متعلقہ تنظیموں اور رپورٹس سے منسوب ہیں۔