اوڈیسا پر روسی حملہ، فوجی تنصیب اور جہاز نشانہ

0

روس نے یوکرین کے جنوبی ساحلی خطے اوڈیسا میں ایک فوجی تنصیب پر حملہ کیا ہے اور بحیرہ اسود میں اوڈیسا شہر سے 58 کلومیٹر جنوب میں ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حملے پیر 2 نومبر کو ہوئے۔

روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ روسی فوج نے اوڈیسا خطے میں ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا اور سمندر میں “فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے” ایک کارگو جہاز کو مارا۔ یہ دعویٰ روسی وزارت دفاع کا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

اوڈیسا میں 4 افراد زخمی

اوڈیسا کے ایک اہلکار نے ٹیلی گرام پر الگ سے بتایا کہ روسی حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے یہ اطلاع دی ہے۔ زخمیوں کی حالت یا حملے کے درست مقام کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

روسی دعوے کے مطابق اوڈیسا خطے میں توزلا کے علاقے میں نیپچون اینٹی شپ میزائل سسٹمز کے لانچرز کی پناہ گاہ اور ذخیرہ کرنے کی جگہ کو نشانہ بنایا گیا۔ بحیرہ اسود میں مارے گئے جہاز کے بارے میں روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ یوکرینی مسلح افواج کے لیے سامان لے جا رہا تھا۔

بحیرہ اسود میں جہازوں پر حملوں کا سلسلہ

یہ حملہ بحیرہ اسود میں یوکرینی بندرگاہوں اور جہاز رانی کے خلاف جاری روسی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ جولائی کے وسط سے روسی افواج جنوبی یوکرین کی بندرگاہی تنصیبات اور یوکرینی فوج کے لیے فوجی سامان لے جانے والے جہازوں کو تقریباً روزانہ نشانہ بنا رہی ہیں۔

ایک روز قبل بھی اسی طرح کے ایک حملے میں اوڈیسا کے جنوب مغرب میں 37 کلومیٹر دور ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی اور یوکرینی سمندری رسد اب روسی حملوں کا مستقل ہدف بنی ہوئی ہے۔

جنگ بندی کی نازک صورتحال

یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب یوکرین میں جنگ بندی کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ پیر کو یوکرین کے دارالحکومت کیف اور خطے میں ہنگامی بجلی کی کٹوتیاں نافذ کی گئیں، جو روسی حملوں کے بعد توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی عکاسی کرتی ہیں۔

دوسری جانب یوکرین نے بھی روسی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اتوار کو یوکرینی میڈیا نے خبر دی کہ کیف نے کستوو آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جبکہ روس نے دعویٰ کیا کہ ماسکو کے مشرق میں ایک صنعتی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا۔

سائبر حملوں کا بھی تبادلہ

اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان سائبر حملوں کا بھی تبادلہ ہوا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ نے بتایا کہ یکم نومبر کی رات کیف کے فضائی حملے کے الرٹ سسٹم کو ہیک کر لیا گیا تھا، جس سے جوہری اور کیمیائی خطرات اور اسٹریٹ فائٹنگ کے بارے میں جھوٹی وارننگز جاری ہوئیں۔ روس نے بھی اپنی ایمرجنسی نوٹیفکیشن ایپ پر سائبر حملے کی اطلاع دی۔

مزید پڑھیں: ایران: آبنائے ہرمز 2 دن میں کھولنے کا منصوبہ (https://ntmnews.online/?p=3288) اور اقوام متحدہ کا مغربی صحارا مشن ختم ہونے لگا (https://ntmnews.online/?p=3224)۔

ماخذ: رائٹرز بذریعہ ڈیو ڈسکورس اور اے نیوز، 2 نومبر 2026؛ روسی وزارت دفاع کا ٹیلی گرام بیان (دعویٰ بطور دعویٰ درج)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *