سوڈان نے ایتھوپیا کے خلاف اقوام متحدہ میں شکایت درج کرا دی
سوڈان نے ایتھوپیا کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل میں باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے۔ خرطوم کا الزام ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) ایتھوپیائی سرزمین سے سوڈانی شہروں اور شہری تنصیبات پر ڈرون حملے کر رہی ہے، جن میں فروری 2026 سے اب تک 484 شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
سوڈانی وزارت خارجہ نے اتوار کی رات جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے “شہری مقامات اور بجلی گھروں” کے خلاف “کھلی جارحیت” ہیں اور ان سے بنیادی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ سلسلہ ایتھوپیا کو بین الاقوامی قانون کے کٹہرے میں لاتا ہے۔
70 حملے، 187 ڈرون
شکایت کے ساتھ سوڈان کی فوج کی زیر قیادت عبوری خودمختاری کونسل کی ایک رپورٹ بھی منسلک کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 فروری سے 27 اکتوبر 2026 کے درمیان 70 حملوں میں 187 یک طرفہ حملہ آور ڈرون استعمال ہوئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں 484 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ 176 سوڈانی فوجی ہلاک اور 200 زخمی ہوئے۔ صرف اکتوبر میں 28 حملوں میں 97 ڈرون استعمال ہوئے۔ رپورٹ میں لانچ مقامات کے طور پر مغربی ایتھوپیا میں اسوسا ہوائی اڈے، کرمک گیزن سرحدی علاقے اور امہارا خطے میں بحر دار ہوائی اڈے کا نام لیا گیا ہے۔ یہ تمام دعوے سوڈانی حکومت کی رپورٹ پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
واد الماہی حملہ اور اقوام متحدہ کا ردعمل
رپورٹ میں 9 اکتوبر کو بلیو نیل خطے میں واد الماہی میں بے گھر خاندانوں پر حملے کا بھی ذکر ہے، جس میں سوڈانی حکام کے مطابق 30 شہری ہلاک ہوئے جن میں 26 خواتین اور چار بچے شامل تھے، جبکہ 100 افراد زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے ہفتے کو کہا کہ سیکریٹری جنرل سوڈان میں ڈرون حملوں کے شہریوں پر اثرات سے “حیران” ہیں۔ یہ بیان دارفور میں آر ایس ایف کے زیر کنٹرول علاقے میں ایک بازار پر حملے کے چند روز بعد آیا جس میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل نے سوڈان میں فریقین کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کی “شدید مذمت” کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
پس منظر: اپریل 2023 سے جاری خانہ جنگی
سوڈان میں فوج اور آر ایس ایف کے درمیان اپریل 2023 سے خانہ جنگی جاری ہے۔ سوڈانی فوج بارہا ایتھوپیا پر آر ایس ایف کی مدد کا الزام لگا چکی ہے، جبکہ ایتھوپیا نے سوڈانی فوج پر ٹگرے پیپلز لبریشن فرنٹ سے منسلک باغیوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے، جس کی خرطوم تردید کرتا ہے۔
یہ شکایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی بلند ہے اور سوڈان میں شہریوں پر حملوں پر عالمی تشویش بڑھ رہی ہے۔ سلامتی کونسل یا افریقی یونین کی جانب سے شکایت پر ابھی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کا مغربی صحارا مشن ختم ہونے لگا (https://ntmnews.online/?p=3224) اور ایران: آبنائے ہرمز 2 دن میں کھولنے کا منصوبہ (https://ntmnews.online/?p=3288)۔
ماخذ: الجزیرہ، 2 نومبر 2026؛ سوڈانی وزارت خارجہ کا بیان اور عبوری خودمختاری کونسل کی رپورٹ۔