فلاویو بولسونارو میامی پہنچ گئے، ٹرمپ کی حمایت

0

برازیل کے شکست خوردہ صدارتی امیدوار فلاویو بولسونارو بدھ 28 اکتوبر کو اہل خانہ سمیت امریکی شہر میامی پہنچ گئے۔ وہ برازیل سے ارجنٹائن اور ایکواڈور کے راستے امریکا پہنچے ہیں، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی امریکا آمد کی کھلے الفاظ میں حمایت کر دی ہے۔

میامی آمد کیسے ہوئی

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور بلومبرگ کی رپورٹوں کے مطابق فلاویو بولسونارو کو میامی کے اوپا لوکا ایگزیکٹو ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں بھی تھیں۔ ان کے بھائی ایڈورڈو بولسونارو، جو گزشتہ برس سے امریکا میں مقیم ہیں، ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

ارجنٹائن کے محکمہ امیگریشن کے مطابق بولسونارو خاندان نے منگل کی رات ساڑھے دس بجے ٹینکریڈو نیویس انٹرنیشنل پل کے راستے برازیل سے ارجنٹائن میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد وہ ایک نجی پرواز سے ایکواڈور گئے، جہاں سے ان کی پرواز میامی کی طرف روانہ ہوئی۔

پاسپورٹ اور عدالتی پابندی

برازیل کی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈرے ڈی مورائس نے فلاویو بولسونارو کو اپنے عام اور سفارتی پاسپورٹ منگل کی دوپہر تک وفاقی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم منی لانڈرنگ کی مبینہ تحقیقات کے سلسلے میں جاری ہوا تھا، جس میں آن لائن بیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی کا الزام زیر بحث ہے۔

رپورٹوں کے مطابق مقررہ وقت گزرنے کے بعد وفاقی پولیس نے ان کے عام اور سفارتی پاسپورٹ منسوخ کر دیے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اطالوی پاسپورٹ بھی ہے۔ بولسونارو خاندان جج ڈی مورائس پر سیاسی انتقام کا الزام لگاتا رہا ہے، جب کہ عدالت کا موقف ہے کہ یہ کارروائی تحقیقات کا حصہ ہے۔

ٹرمپ کی حمایت اور ویزے

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو تصدیق کی تھی کہ فلاویو بولسونارو اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کی شب صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ بولسونارو کی امریکا آمد کی منظوری دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ برازیل کا انتخاب بہت عجیب تھا اور انہیں یہ صورت حال افسوسناک لگی۔

ٹرمپ کے قریبی وکیل سیمون لیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے سیاسی پناہ کی منظوری دی ہے، تاہم امریکی حکومت نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

انتخابی پس منظر

فلاویو بولسونارو نے 25 اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں صدر لولا ڈی سلوا سے شکست کھائی تھی۔ وہ پہلے مرحلے میں سب سے آگے تھے، لیکن دوسرے مرحلے میں لولا نے ڈرامائی واپسی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ شکست کے بعد فلاویو بولسونارو نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی ہے اور انتخابی نتیجے کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ان کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ ان کے والد، سابق صدر جیئر بولسونارو کی رہائی تھا، جو 2022 کے انتخاب کے بعد بغاوت کی سازش کے جرم میں 27 برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ جیئر بولسونارو بھی 2022 میں شکست کے بعد فلوریڈا چلے گئے تھے اور تین ماہ بعد برازیل واپس آئے تھے۔

سفارتی اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلاویو بولسونارو کی امریکا آمد برازیل اور امریکا کے تعلقات میں نیا تناؤ پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ نو منتخب صدر لولا اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان پہلے ہی انتخابی نتائج پر اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ ارجنٹائن کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ ارجنٹائن کے صدر خاویر میلئی بولسونارو کی مہم میں شرکت کے لیے برازیل گئے تھے۔

مزید پڑھیں: برازیل سے فلاویو بولسونارو کی روانگی کی خبر https://ntmnews.online/?p=2372 اور لولا کی جیت کے بعد برازیل کی مارکیٹ میں ہلچل https://ntmnews.online/?p=2074 پر ملاحظہ کریں۔

ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، بلومبرگ، یو ایس اے ٹوڈے، 28 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *