کراچی کال سینٹر چھاپہ: شاہراہ فیصل پر احتجاج

0

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی کے ٹیپو سلطان علاقے میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر سیکڑوں افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا، جس کے بعد اہل خانہ نے شاہراہ فیصل پر احتجاج کیا اور ٹریفک جام ہو گیا۔

چھاپہ کیسے مارا گیا

این سی سی آئی اے نے گزشتہ رات کراچی کے ٹیپو سلطان علاقے میں واقع کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ ایجنسی کے ذرائع کے مطابق آپریشن کئی گھنٹے جاری رہا اور ایجنسی کا عملہ اگلے دن بھی کال سینٹر میں موجود رہا۔ چھاپے کے وقت سینٹر میں تقریباً 273 افراد موجود تھے، جن میں نوجوان مرد و خواتین شامل تھیں۔ ایجنسی نے مبینہ طور پر غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے — ایف آئی آر نمبر 122/2026 کے تحت کارروائی کی تصدیق کی گئی ہے۔ این سی سی آئی اے نے آج سہ پہر 4 بجے پریس کانفرنس کر کے معاملے کی تفصیلات بتانے کا اعلان کیا ہے۔

اہل خانہ کا احتجاج اور ٹریفک جام

چھاپے کے بعد حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ کال سینٹر کے باہر جمع ہو گئے اور اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات کا مطالبہ کیا۔ خاندانوں کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کو 24 گھنٹے سے زائد عرصے سے اندر رکھا گیا ہے اور انہیں ان کی خیریت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔ مظاہرین نے شاہراہ فیصل پر دھرنا دے کر سڑک کا ایک ٹریک بند کر دیا، جس سے بالوچ کالونی سے صدر کی جانب جانے والی سڑک پر شدید ٹریفک جام ہو گیا — اسکول کی بسیں اور مسافر گاڑیاں گھنٹوں پھنسی رہیں، ایک ایمبولینس بھی ٹریفک میں پھنس گئی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کر دیا اور سڑک کھول دی گئی۔

ملک بھر میں کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن

یہ چھاپہ این سی سی آئی اے کے ملک بھر میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ سینٹرز غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دہی پر مبنی کالز اور بینکنگ معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس سے قبل ایجنسی نے لاہور اور کراچی میں چار مبینہ اسکیم سینٹرز پر کارروائی کر کے 89 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن سے 117 لیپ ٹاپ اور 76 موبائل فون برآمد ہوئے تھے۔ کراچی کے شاہراہ فیصل ٹیکنالوجی پارک میں ایک اور کارروائی میں 47 افراد گرفتار کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ گرفتاری یا حراست کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں ہے — الزامات کی تحقیقات اور عدالتی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

مزید پڑھیں:
https://ntmnews.online/?p=1643
https://ntmnews.online/?p=1126

ذرائع: اے آر وائی نیوز، 4 نومبر 2026؛ دی پاکستان کنیکٹ، 5 نومبر 2026؛ ڈائیلاگ پاکستان، 5 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *