کیلیفورنیا: 548 قیدیوں کی سزائے موت معاف، نیوسم کا فیصلہ
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ریاست کے تمام 548 سزائے موت کے قیدیوں کی سزائیں عمر قید میں بدل دی ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی معافی قرار دی جا رہی ہے، جس سے مغربی نصف کرہ کی سب سے بڑی سزائے موت کی قطار عملاً ختم ہو جائے گی۔
نیوسم نے کیا اعلان کیا؟
گورنر نیوسم نے جمعرات 5 نومبر کو “تمام کیلیفورنیا والوں” کے نام تین صفحات پر مشتمل کھلے خط میں اعلان کیا کہ وہ تمام 548 قیدیوں کی سزائے موت کو بغیر پیرول کے عمر قید میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “میں یہ قدم اس لیے اٹھا رہا ہوں کیونکہ میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ ریاست کی جانب سے قتل کیلیفورنیا کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا، ہمارے قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے اور ہم سب کو چھوٹا کرتا ہے۔”
ان 548 قیدیوں میں 529 مرد اور 19 خواتین شامل ہیں — یہ امریکا بھر میں سزائے موت پانے والے تمام افراد کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ ہے۔
کیا تمام معافیاں فوری نافذ ہوں گی؟
نہیں — تمام معافیاں فوری طور پر حتمی نہیں ہوں گی۔ کیلیفورنیا کے آئین کے آرٹیکل پانچ، سیکشن آٹھ کے تحت گورنر کسی ایسے شخص کی معافی نہیں دے سکتا جسے ایک سے زائد جرائم میں سزا ہوئی ہو، جب تک ریاستی سپریم کورٹ سفارش نہ کرے۔ تقریباً دو تہائی مقدمات — 382 قیدی — اس جائزے کے دائرے میں آتے ہیں، جن کے لیے سات ججوں میں سے کم از کم چار کی رضامندی ضروری ہے۔ باقی 166 معافیاں فوری طور پر نافذ ہو سکتی ہیں۔
نیوسم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ 2026 کے اختتام تک اپنی سفارشات واپس کرے، تاکہ وہ جنوری 2027 میں اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے معافی کے سرٹیفکیٹ جاری کر سکیں۔
کیلیفورنیا میں سزائے موت کی تاریخ
کیلیفورنیا میں 17 جنوری 2006 کے بعد سے کسی قیدی کو پھانسی نہیں دی گئی — یعنی 20 سال سے کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ نیوسم نے مارچ 2019 میں عہدہ سنبھالنے کے تقریباً دو ماہ بعد پھانسیوں پر عارضی پابندی (موریٹوریم) لگا دی تھی۔
یہ فیصلہ سزائے موت کو ختم نہیں کرتا — کیلیفورنیا کے قانون میں یہ سزا بدستور موجود ہے اور ووٹروں نے 2012 اور 2016 میں اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مستقبل کے گورنر اس پر عملدرآمد بحال کر سکتے ہیں، مگر جن قیدیوں کی سزائیں معاف ہو جائیں گی، انہیں پھانسی نہیں دی جا سکے گی۔
مخالفت اور تنقید
ریورسائیڈ کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی مائیک ہیسٹرن نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر نے ان ڈسٹرکٹ اٹارنیوں کو مطلع کیے بغیر سزائیں معاف کر دیں جن کے دفاتر نے یہ مقدمات چلائے اور سزائیں دلوائی تھیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے حامیوں نے اسے تاریخی قدم قرار دیا۔ ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق یہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی معافی ہے۔
سیاسی پس منظر
نیوسم اپنی دوسری اور آخری مدت کے آخری ہفتوں میں ہیں اور 2028 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق انہوں نے جان بوجھ کر یہ اعلان وسط مدتی انتخابات کے بعد تک موخر رکھا تاکہ انتخابی مہم میں سزائے موت کا معاملہ نہ اٹھے۔ وہ 4 جنوری کو عہدہ چھوڑیں گے اور گورنر منتخب زیویئر بیسیرا ان کی جگہ لیں گے۔
مزید پڑھیں: امریکا: ڈیموکریٹس نے کانگریس جیت لی، ٹرمپ نے شکست مان لی — https://ntmnews.online/?p=3724 اور ٹرمپ: ایران پر فیصلہ جلد، حملے کا اشارہ — https://ntmnews.online/?p=3867۔
ذرائع: الجزیرہ، BusinessWorld (رائٹرز)، USA Today — 6 نومبر 2026