بھگونت مان کو ویزا دینے پر پاکستان تیار، لاہور کانفرنس
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان اگر لاہور آنا چاہیں تو انہیں ویزا دینے پر غور کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعہ 6 نومبر 2026 کو اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں یہ بات کہی۔ مان کو 27 نومبر کو لاہور میں ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
دفتر خارجہ نے کیا کہا؟
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان سے بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان پاکستان آ سکتے ہیں۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر مان پاکستان آنا چاہیں تو حکومت ان کو ویزا جاری کرنے پر غور کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی حکومت مان کو پاکستان آنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں، یہ ایک بالکل الگ معاملہ ہے۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ بھگونت مان کو ویزا دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور پاکستان نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا خدمات معطل نہیں کی ہیں۔ تاہم بریفنگ میں یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ مان کو ویزا جاری کر دیا گیا ہے یا ان کے دورے کے انتظامات طے پا گئے ہیں۔
مان کو دعوت کب ملی؟
بھگونت مان نے 23 اکتوبر کو بتایا تھا کہ انہیں لاہور میں 27 نومبر کو ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی ہے۔ تاہم انہوں نے اس وقت یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا انہیں پاکستان جانے کی اجازت ملے گی۔
مان نے یہ خواہش بھی ظاہر کی تھی کہ اگر کرتارپور راہداری بھارتی یاتریوں کے لیے دوبارہ کھل جائے تو وہ پنجاب کے اراکین اسمبلی کو ساتھ لے کر کرتارپور صاحب جانا چاہیں گے۔
پس منظر: دونوں پنجابوں کے درمیان رابطہ
لاہور میں ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس پنجابی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے منعقد کی جا رہی ہے، اور اس میں دونوں طرف کے پنجاب سے مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔ اگر بھگونت مان لاہور آتے ہیں تو یہ برسوں بعد بھارتی پنجاب کے کسی وزیراعلیٰ کا پاکستان کا دورہ ہوگا، جسے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی رابطوں کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم دورے کی حتمی صورت بھارتی حکومت کی اجازت سے مشروط ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی طرف سے دروازہ کھلا ہے، اب فیصلہ نئی دہلی کو کرنا ہے کہ وہ اپنے وزیراعلیٰ کو لاہور جانے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: ایس سی او سربراہی اجلاس: بھارت کو دعوت (https://ntmnews.online/?p=3926) اور پنجاب بلدیاتی انتخابات 7 فروری 2027 (https://ntmnews.online/?p=3710
ماخذ: ٹریبیون انڈیا (پی ٹی آئی)، ٹیلی گراف انڈیا، ان شارٹس — 6 اور 7 نومبر 2026