امریکا میں خسرہ: 35 سال میں سب سے زیادہ 5,182 کیسز

0

امریکا میں خسرہ: 35 سال میں سب سے زیادہ 5,182 کیسز

امریکا میں 2026 میں خسرے کے 5,182 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو 35 سال میں سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔ امریکی ادارہ برائے امراض کی روک تھام (سی ڈی سی) کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 2025 کے پورے سال کے 2,289 کیسز سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے، اور 1991 کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔ ریاستی صحت حکام کے مطابق خسرے سے منسلک کم از کم 8 اموات بھی ہوئی ہیں، جن میں بہت چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

سی ڈی سی کے مطابق 2026 میں خسرے کے کیسز 47 دائرہ اختیار والے علاقوں میں رپورٹ ہوئے، جبکہ بین الاقوامی مسافروں کے مزید 18 کیسز بھی سامنے آئے۔ اس سال ملک بھر میں خسرے کی 43 وبائیں رپورٹ ہوئیں، اور تصدیق شدہ کیسز میں سے تقریباً 96 فیصد کا تعلق ان وباؤں سے تھا۔ کیسز 45 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں سامنے آئے ہیں۔

اموات کی تفصیل کے مطابق 8 اموات میں سے 6 پنسلوانیا میں، ایک نیویارک میں اور ایک وسکونسن میں ہوئی۔ نیویارک کے محکمہ صحت نے بدھ کو بتایا کہ ریاست کے بالائی علاقے میں رہنے والا ایک بچہ خسرے کے ساتھ انتقال کر گیا، جو ریاست میں کئی دہائیوں میں خسرے سے منسلک پہلی موت ہے۔ وسکونسن میں ایک شیر خوار بچے کی موت بھی کئی دہائیوں میں پہلی ہے۔ سی ڈی سی نے اب تک ان 8 اموات میں سے 4 کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تعداد تبدیل ہو سکتی ہے۔ سی ڈی سی اپنے قومی اعداد و شمار ہفتہ وار اپ ڈیٹ کرتا ہے۔

خسرہ کیوں پھیل رہا ہے

خسرہ ایک انتہائی متعدی لیکن قابل روک تھام بیماری ہے۔ یہ ہوا کے ذریعے پھیلنے والے وائرس سے ہوتی ہے اور اس کی علامات میں تیز بخار، کھانسی اور جسم پر دانے شامل ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق زیادہ تر کیسز ان افراد میں سامنے آئے ہیں جنہیں ویکسین نہیں لگی تھی۔ خسرے کی ویکسین (ایم ایم آر) کی دو خوراکیں تقریباً 97 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہیں، اس لیے ماہرین اس پھیلاؤ کی بڑی وجہ ویکسینیشن کی شرح میں کمی کو قرار دے رہے ہیں۔

امریکی صحت حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسینیشن مکمل کروائیں اور اگر کسی بچے میں بخار اور دانوں کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خسرہ نمونیا اور دماغ کی سوزش جیسی سنگین پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں۔

پاکستان کے لیے سبق

پاکستان میں بھی خسرہ بچوں کی ایک عام بیماری ہے اور یہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام (ای پی آئی) میں شامل ہے۔ ملک میں اس وقت پولیو کے خلاف بھی مہم جاری ہے، اور پولیو کے حالیہ کیسز کی تفصیل ہماری اس خبر میں موجود ہے: https://ntmnews.online/?p=3906 صحت حکام بچوں کی ویکسینیشن پر زور دے رہے ہیں۔ راولپنڈی میں ڈینگی کے کیسز میں کمی کی تفصیل ہماری اس خبر میں موجود ہے: https://ntmnews.online/?p=3959 ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ ویکسینیشن میں کمی آئے تو برسوں سے قابو میں رہنے والی بیماری بھی تیزی سے واپس آ سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کارڈ مکمل رکھیں اور مقررہ وقت پر تمام خوراکیں لگوائیں۔

ماخذ: سی ڈی سی کے اعداد و شمار اور اے ایف پی کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *