پولیو کا نواں کیس، وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس
پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس سامنے آنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ 6 نومبر 2026 کو وزیراعظم آفس اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور وفاقی حکام کو ہدایت کی کہ وہ چاروں صوبوں کا دورہ کر کے ایک ہفتے کے اندر مربوط حکمت عملی تیار کریں۔ اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کے لیے قائم علاقائی ریفرنس لیبارٹری نے خیبر ضلع کے سات ماہ کے بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق کر دی ہے۔
نواں کیس کہاں سامنے آیا
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق نیا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی مستک یونین کونسل سے سامنے آیا جہاں سات ماہ کے بچے کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ یہ رواں سال خیبر ضلع سے سامنے آنے والا تیسرا اور خیبر پختونخوا سے ساتواں کیس ہے۔
پاکستان پولیو ایراڈیکیشن انیشی ایٹو کے مطابق خیبر ضلع کے تینوں کیسز میں پائے جانے والے وائرس کا جینیاتی تجزیہ افغانستان میں پھیلے ہوئے پولیو وائرس سے میل کھاتا ہے۔ افغانستان میں رواں سال پولیو کے 50 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جس سے سرحد پار وائرس کی منتقلی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں پولیو کے تازہ کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بیماری کے خلاف مہم میں رفتار کھونے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے بہتر حکمت عملی اور تیز تر جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت، وزیر مملکت، سیکریٹری قومی صحت اور پولیو کے خاتمے کی ٹیم کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور متعلقہ وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے مشاورت کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے کے اندر مربوط ایکشن پلان تیار کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ حکومت مشکل علاقوں میں ورکرز کی بلاتعطل رسائی اور ان کی سیکیورٹی کو ترجیح دے گی۔
ملک بھر میں کیسز کی صورتحال
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال کے نو کیسز میں سے سات خیبر پختونخوا سے سامنے آئے ہیں جن میں تین خیبر ضلع، تین بنوں اور ایک شمالی وزیرستان سے ہے۔ باقی دو کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے جن میں ایک کراچی ایسٹ اور ایک سجاول ضلع سے ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار رواں سال کم ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ پنجاب میں فروری 2025 کے بعد کوئی نیا پولیو کیس سامنے نہیں آیا جبکہ بلوچستان 2025 اور 2026 میں کیسز سے پاک رہا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
ویکسینیشن ٹیموں پر حملے اور سیکیورٹی
اجلاس میں ویکسینیشن ٹیموں کی سیکیورٹی کے انتظامات مضبوط بنانے اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع تک ان کی رسائی بہتر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں پولیو ٹیموں پر حملوں اور اغوا کے واقعات نے مہم کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
وزیراعظم نے معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کی کوریج بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی، خاص طور پر پولیو سے متاثرہ اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سیکیورٹی کے لحاظ سے حساس اور مشکل علاقوں میں مہم تک رسائی میں بہتری آئی ہے اور اس پیش رفت کو بہتر رابطے اور مؤثر عمل درآمد کے ذریعے برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پولیو کے نویں کیس کی پہلی خبر یہاں پڑھیں: پولیو کا نواں کیس رپورٹ (https://ntmnews.online/?p=3712)۔ کراچی میں پولیو کیس کے بعد سندھ حکومت کے اقدامات کے بارے میں پڑھیں: کراچی ایسٹ میں پولیو کیس کے بعد سندھ حکومت حرکت میں (https://ntmnews.online/?p=1342)۔
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، 6 نومبر 2026۔