پولیو مہم آج ختم: 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے، حملوں کے سائے میں مہم مکمل

0

ملک بھر میں جاری قومی انسداد پولیو مہم آج 8 نومبر کو اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ 2 نومبر سے شروع ہونے والی اس مہم میں 97 اضلاع میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ مہم اپنے آخری روز میں داخل ہو چکی ہے، تاہم اس بار بھی پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملوں نے مہم کو متاثر کیا۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے پولیو کے مطابق رواں سال ملک میں پولیو کے 9 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تازہ ترین کیس 5 نومبر کو خیبر ضلع سے سامنے آیا تھا، جس میں 7 ماہ کا بچہ متاثر ہوا تھا۔ اس سے قبل 2 نومبر کو بھی خیبر ضلع سے 13 ماہ کی بچی کا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ 9 میں سے 7 کیسز خیبرپختونخوا اور 2 سندھ سے رپورٹ ہوئے۔

مہمند میں 2 اہلکار شہید

مہم کے دوسرے روز 3 نومبر کو خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق اہلکار پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے قریبی گاؤں جا رہے تھے جب ان پر حملہ ہوا۔

شہید اہلکاروں کی شناخت ظہور اور عربی کے نام سے ہوئی جبکہ زخمی اہلکار کا نام صابر بتایا گیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں نے موقع سے فرار اختیار کر لیا اور کسی گروہ نے تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں کوئی پولیو عملہ موجود نہیں تھا۔

ٹانک میں 4 کارکنوں کا اغوا

مہمند حملے سے ایک روز قبل 2 نومبر کو ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو مہم کے 4 کارکنوں کو اغوا کر لیا تھا۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اس سے قبل 5 نومبر کو جمرود میں پولیو مہم کے ایک سپروائزر کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد خیبرپختونخوا کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا تھا۔

پولیو کے خلاف جنگ میں رکاوٹیں

پاکستان اور افغانستان دنیا کے صرف دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہ باقاعدگی سے پولیو مہموں اور صحت کے کارکنوں کی حفاظت کرنے والی پولیس کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ یہ گروہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ پولیو مہم مغربی سازش کا حصہ ہے۔

ستمبر 2026 میں بھی بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور 2 پولیس اہلکاروں کو مسلح افراد نے شہید کر دیا تھا۔

مہم کا ہدف اور اگلا مرحلہ

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم کا مقصد ملک کے ہر بچے تک پہنچنا ہے تاکہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ صدر آصف علی زرداری نے مہمند حملے پر اپنے بیان میں واقعے کو “انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت” قرار دیا تھا۔

ماہرین صحت کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے ہر مہم میں تمام بچوں تک رسائی ناگزیر ہے، اور حملوں کے باوجود مہم جاری رکھنا اس عزم کا اظہار ہے کہ بچوں کی صحت کو کسی بھی صورت خطرے میں نہیں ڈالا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پولیو کا 9واں کیس: خیبر میں 7 ماہ کا بچہ متاثر — https://ntmnews.online/?p=3712

مزید پڑھیں: پولیو مہم پر حملے جاری: جمرود میں سپروائزر اغوا — https://ntmnews.online/?p=3728

ماخذ: الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس، دی نیشن — 3 تا 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *