گورنر راج: پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں خارج کر دیں
پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف دائر تمام رٹ درخواستیں کاز لسٹ سے خارج کر دی ہیں۔ ہفتے کے روز عدالت کی انتظامی کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی تعمیل میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے بعد صوبے میں غیر معمولی اقدامات کے خلاف عدالتی جانچ پڑتال ہائیکورٹ کی سطح پر مؤثر طور پر رک گئی ہے۔
خارج کی گئی درخواستوں میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی بازیابی کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، خیبرپختونخوا بار کونسل، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین محسن داوڑ اور رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کی درخواستیں بھی اسی فہرست میں تھیں۔
وفاقی آئینی عدالت کا حکم کیا تھا؟
وفاقی آئینی عدالت نے ایک روز قبل پشاور ہائیکورٹ سے 12 اکتوبر کے بعد دائر ہونے والے مقدمات پر سماعت کا اختیار چھین لیا تھا۔ اس سے قبل 5 نومبر کو عدالت نے ہائیکورٹ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت گرفتاریوں سے متعلق مقدمات کی سماعت سے بھی روک دیا تھا۔
چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا تھا کہ چونکہ 11 اکتوبر کے حکم کے تحت مسلح افواج کو صوبے بھر میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا گیا ہے، اس لیے آئین کی شق 245(4) کے تحت 12 اکتوبر یا اس کے بعد آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواستوں پر کارروائی معطل رہے گی۔
انتظامی کمیٹی کا فیصلہ
پشاور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر کی گئی کوئی بھی رٹ درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائے گی۔ آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواستوں کو درخواست گزاروں کو واپس کر دیا جائے گا اور انہیں مناسب فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔ نئی درخواستیں بھی وصول یا زیر غور نہیں لائی جائیں گی۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پشاور ہائیکورٹ نے ایم پی او آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت گرفتار 23 پی ٹی آئی کارکنوں کو ضمانت دی تھی اور گورنر راج کے خلاف گورنر اور اسپیکر سے جواب طلب کیا تھا۔
گورنر راج کب اور کیوں لگا؟
11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔ حکومت نے اس اقدام کی وجہ سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال، دہشت گرد حملوں میں اضافہ اور انسداد دہشت گردی میں صوبائی انتظامیہ کی جانب سے وفاق کے ساتھ مؤثر تعاون نہ کرنا قرار دیا تھا۔
نئے انتظام کے تحت انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کر دیے گئے، جن کی معاونت ایک مشاورتی کونسل کر رہی ہے، جبکہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے اقدامات نافذ کیے گئے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔
اب آگے کیا ہوگا؟
تازہ ترین پیش رفت کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کو ریلیف کے لیے اسی فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔ ہائیکورٹ نے 10 نومبر کے لیے اپنی کاز لسٹ بھی جاری کر دی ہے، تاہم ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی سماعت اب اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ سات روز کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کریں جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے مسلح افواج کی مسلسل موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
مزید پڑھیں: طارر: گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی پر پابندی کی ضرورت شاید باقی نہ رہے — https://ntmnews.online/?p=1262
مزید پڑھیں: شہباز شریف: کے پی ایمرجنسی مجبوری میں، پی ٹی آئی کی غفلت — https://ntmnews.online/?p=1495
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، ڈان، اے آر وائی نیوز — 7 نومبر 2026