کیش لیس پاکستان: 15 نومبر سے چیک بند، راست لازمی

0

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ 6 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں کیش لیس معیشت سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک میں سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کا واضح روڈ میپ اور وقت کی پابندی والے اہداف تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔ آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے تحت چیک کے ذریعے ادائیگیاں 15 نومبر سے بند ہو جائیں گی اور 16 نومبر سے تمام ادائیگیاں اسٹیٹ بینک کے راست ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہوں گی۔

اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے قیام کے لیے واضح روڈ میپ اور وقت کی پابندی والے اہداف پیش کریں۔ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ کیش لیس معیشت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سمت میں مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سہولت یقینی بنانے اور عوام کو ٹیکنالوجی تک آسان رسائی دینے پر بھی زور دیا تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف منتقلی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ کیش لیس معیشت کے منصوبے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

راست کیو آر کوڈ اور بجلی گیس کے بل

وزیراعظم نے کہا کہ راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام حکومت کے کیش لیس معیشت کے وژن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صارفین اور تاجروں کے درمیان راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے والی سرکاری اسکیم حکومتی سرپرستی میں جاری رکھی جائے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بجلی اور گیس کے صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں پر چھپے کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلائی جائے گی تاکہ شہری موبائل بینکنگ ایپلی کیشنز کے ذریعے اپنے بل آسانی سے ادا کر سکیں۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کی موجودہ صورتحال

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے تمام اداروں میں ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کا کام تیزی سے جاری ہے اور دسمبر 2026 تک زیادہ تر اداروں میں ادائیگیاں مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائیں گی۔

بیان کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سو فیصد ادائیگیاں اب ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے حوالے سے بتایا گیا کہ 15 نومبر سے ان اکاؤنٹس میں چیک کے ذریعے ادائیگیاں بند کر دی جائیں گی اور 16 نومبر سے ملک بھر میں تمام ادائیگیاں راست ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہوں گی۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈرائنگ اور ڈسبرسنگ افسران کو نئے نظام کی تربیت دے دی گئی ہے۔

آگے کیا ہوگا

حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام شفافیت بڑھائے گا، سرکاری ادائیگیوں میں تاخیر کم کرے گا اور کیش کے استعمال پر انحصار کم ہوگا۔ وزیراعظم کی ہدایت کے بعد متعلقہ ادارے اب روڈ میپ اور اہداف تیار کر کے پیش کریں گے جس کے بعد کیش لیس معیشت کی طرف منتقلی کے اگلے مراحل کا اعلان متوقع ہے۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بارے میں ہماری خبر بھی پڑھیں: پیٹرول 9.41 روپے سستا، نئی قیمت 352.59 روپے فی لیٹر (https://ntmnews.online/?p=3776)۔ قومی بچت کی نئی منافع کی شرحوں کے بارے میں جاننے کے لیے پڑھیں: قومی بچت — 21 اکتوبر 2026 سے منافع کی نئی شرحیں جاری (https://ntmnews.online/?p=1198)۔

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور اردو پوائنٹ، 6 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *