وسیم اکرم کا افغان لیگ سے انکار، پی سی بی کے ساتھ کھڑے
سابق کپتان وسیم اکرم نے افغانستان پریمیئر لیگ میں مینٹر بننے کی پیشکش ٹھکرا دی ہے۔ جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق وسیم اکرم کو افغانستان پریمیئر لیگ کی ایک ٹیم میں مینٹرشپ کا کردار پیش کیا گیا تھا تاہم انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی کے احترام میں اس پیشکش کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نہ وسیم اکرم نے اور نہ ہی پی سی بی نے اس معاملے پر تاحال کوئی عوامی تبصرہ کیا ہے۔
پیشکش اور انکار کی کہانی
جیو سپر کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وسیم اکرم سے افغانستان پریمیئر لیگ میں مینٹر کے طور پر شامل ہونے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے بورڈ کے مؤقف کے مطابق فیصلہ کیا اور لیگ کا حصہ نہ بننے کا انتخاب کیا۔
وسیم اکرم کھیل کے عظیم ترین فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے اس فیصلے کو بورڈ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے پی سی بی کی پالیسی کے خلاف جانے سے گریز کیا۔
پی سی بی کا این او سی نہ دینے کا فیصلہ
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سے قبل فیصلہ کیا تھا کہ وہ افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت کے خواہشمند قومی کرکٹرز کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرے گا۔ این او سی کے بغیر بورڈ سے معاہدہ شدہ یا رجسٹرڈ کھلاڑی بیرون ملک لیگز میں حصہ نہیں لے سکتے۔
رپورٹس کے مطابق 30 سے زائد پاکستانی کرکٹرز نے لیگ کے ڈرافٹ کے لیے رجسٹریشن کرائی تھی جن میں فخر زمان، صائم ایوب، حسن علی، شان مسعود، عبداللہ شفیق، فہیم اشرف اور عماد وسیم شامل تھے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی ڈرافٹ میں منتخب نہیں ہوا۔
دوسرے سابق کھلاڑیوں کا کردار
رپورٹس کے مطابق سابق آل راؤنڈر اظہر محمود نے افغانستان پریمیئر لیگ کی ٹیم پکتیا کے ساتھ کوچنگ کا کردار قبول کر لیا ہے جبکہ سابق کپتان وقار یونس ایک ٹیم کے سفیر بن گئے ہیں۔
وسیم اکرم کے فیصلے کے برعکس ان دونوں سابق کھلاڑیوں کی لیگ سے وابستگی نے شائقین میں بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم بورڈ کا مؤقف ہے کہ این او سی کی پابندی صرف فعال قومی کھلاڑیوں پر لاگو ہوتی ہے۔
پس منظر اور آگے کیا ہوگا
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے پس منظر میں پی سی بی نے افغانستان پریمیئر لیگ کے لیے این او سی نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی پالیسی کے تحت وسیم اکرم نے بھی لیگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب پی سی بی نے ابوظبی ٹی ٹین لیگ کے منتظمین کے ساتھ این او سی کے معاملے پر معاہدہ کر لیا ہے جس سے پاکستانی کرکٹرز اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے سکیں گے۔ افغانستان پریمیئر لیگ کے حوالے سے بورڈ کے مؤقف میں کسی تبدیلی کا تاحال کوئی اشارہ نہیں ملا۔
پی سی بی اور ابوظبی ٹی ٹین لیگ کے معاہدے کے بارے میں ہماری خبر پڑھیں: پی سی بی ابوظبی ٹی ٹین معاہدہ (https://ntmnews.online/?p=3893)۔ بابر اعظم کی قائد اعظم ٹرافی میں بیٹ توڑنے کی خبر یہاں پڑھیں: بابر اعظم نے بیٹ توڑ دیا (https://ntmnews.online/?p=3878)۔
ماخذ: جیو سپر، دی کرنٹ اور دنیا نیوز، 5 تا 6 نومبر 2026۔