راولپنڈی: ڈینگی کے 91 کیس، گزشتہ سال سے بہت کم
راولپنڈی ضلع میں رواں سال 5 نومبر تک ڈینگی کے 91 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 1,586 کیسز کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ یہ اعداد و شمار جمعے 6 نومبر کو ضلعی ایمرجنسی اینڈ رسپانس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے گئے، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز فضائل مدثر نے کی۔
ضلعی حکام نے کمی کی وجہ وسیع نگرانی اور مچھروں کے خلاف مہم کو قرار دیا، جبکہ صحت اور بلدیاتی ٹیموں کو ہاٹ اسپاٹس کی نگرانی اور عوامی آگاہی مہم جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
نگرانی کے اعداد و شمار
اجلاس کو بتایا گیا کہ فیلڈ نگرانی ٹیموں نے تقریباً 59 لاکھ گھروں اور 20 لاکھ سے زائد بیرونی مقامات کی جانچ کی، اور 2 لاکھ 43 ہزار سے زائد مقامات پر ڈینگی کا لاروا پایا گیا۔
زیادہ خطرے والے لاروا کے 4,676 مقامات میں سے 4,622 مقامات پر تدارک کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی 54 مقامات پر کارروائی جاری ہے۔ فضائل مدثر نے صحت ٹیموں اور بلدیاتی محکموں کو ہدایت کی کہ مثبت مقامات کے گرد مچھروں کے خاتمے کی رفتار تیز کی جائے اور موسمی افزائش پر قابو پانے کے لیے آگاہی مہم مزید تیز کی جائے۔
پچھلے ہفتے کی صورتحال
اس سے قبل 2 نومبر تک کے اعداد کے مطابق راولپنڈی میں ڈینگی کے 86 تصدیق شدہ کیسز تھے، جن میں 24 گھنٹوں کے دوران 2 نئے کیسز شامل تھے۔ رواں سال اب تک اسپتالوں میں 6,433 مریضوں کی اسکریننگ ہوئی، جن میں سے 5,905 مشتبہ کیسز سامنے آئے۔ 11 مریض اسپتال میں داخل تھے، جن میں 4 تصدیق شدہ کیسز شامل تھے، اور ابھی تک کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
مہم کے دوران 415 بیرونی اور 985 اندرونی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے 17,859 ہاٹ اسپاٹس میں سے 99 فیصد تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔ لاروا سب سے زیادہ ڈھوک منگٹال، نرار کہوٹہ، کینٹ اور داخلی کہوٹہ کے علاقوں میں پایا گیا۔ خلاف ورزیوں پر اب تک 2,798 مقدمات، 686 جگہوں کو سیل کرنے اور 2,331 چالانوں کے ساتھ 31 لاکھ 56 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔
ڈینگی کا موسم ابھی ختم نہیں ہوا
محکمہ موسمیات کے نومبر 2026 کے جائزے کے مطابق ملک میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے، جس سے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ڈینگی کا موسم طویل ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گھروں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں، ٹینکیاں اور برتن ڈھانپ کر رکھیں، اور مچھر دانی کا استعمال کریں۔
بخار، سر درد، جوڑوں کے درد یا جسم پر دھبوں کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال یا بنیادی مرکز صحت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈینگی سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ مچھر کی افزائش کو روکنا ہے، کیونکہ یہ مچھر صاف کھڑے پانی میں پیدا ہوتا ہے۔
متعلقہ خبریں: راولپنڈی میں ڈینگی کے 86 کیسز کے بارے میں پڑھیں https://ntmnews.online/?p=3558 اور نومبر میں بارشوں اور ڈینگی کے خطرے کے بارے میں https://ntmnews.online/?p=3780
ماخذ: اے پی پی بذریعہ اردو پوائنٹ، 6 نومبر 2026۔