پاکستان نے تائیوان ایئرلائنز پر فضائی پابندی لگا دی
پاکستان نے چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو بتایا کہ ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل کر رہا ہے اور پاکستان کی فضائی حدود سے صرف چینی ایئرلائنز کو گزرنے کی اجازت ہے۔
خواجہ آصف نے کیا کہا
خواجہ آصف نے بلومبرگ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت صرف مین لینڈ چین کو اجازت ہے۔ ان کے الفاظ میں، ہم نے پاکستان کی فضائی حدود سے صرف چینی ایئرلائنز کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ پابندی تائیوان کی دو بڑی ایئرلائنز، چائنا ایئرلائنز لمیٹڈ اور ایوا ایئر ویز کارپوریشن پر لاگو ہوتی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جو کسی بھی ملک نے تائیوان کی ایئرلائنز کے خلاف ون چائنا پالیسی کی بنیاد پر اٹھایا ہے، اور اس سے ایشیا میں ایک نئی تقسیم پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پروازوں کا رخ کیسے بدلا
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کی پروازیں 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستان کی فضائی حدود سے نہیں گزری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اتوار سے اب تک ان دونوں ایئرلائنز کی ایشیا اور یورپ کے درمیان کم از کم ایک درجن پروازوں نے پاکستان کے بجائے روس کی فضائی حدود استعمال کی ہے۔
اس تبدیلی سے پروازوں کے دورانیے میں گھنٹوں کا اضافہ اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ایئرلائنز نے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں سے بھی پروازیں روٹ کرنا شروع کر دی ہیں۔ تائیوان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پروازوں کے رخ بدلنے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے واضح کیا کہ اس نے کبھی اپنی ایئرلائنز پر روس کی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی نہیں لگائی تھی۔
تائیوان کی ایئرلائنز کا موقف
رپورٹ کے مطابق چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر دونوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ چین اور تائیوان کی وزارت خارجہ نے بھی فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تائیوان کی ایئرلائنز نے فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے روس کی فضائی حدود سے بڑی حد تک گریز کیا تھا، مگر اب تازہ پروازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی راستہ دوبارہ استعمال ہو رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پابندی مین لینڈ چین کی پابندیوں سے بھی سخت ہے، کیونکہ چین کی فضائی حدود تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے اوور فلائٹس کے لیے تاحال دستیاب ہے۔
پاکستان کا ون چائنا موقف
پاکستان طویل عرصے سے تائیوان کے معاملے پر چین کے موقف کی حمایت کرتا آیا ہے اور تائیوان کی بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے 3 جنوری کو کہا تھا کہ اسلام آباد ون چائنا اصول پر قائم رہے گا اور تائیوان کو چین کا ناقابل تنسیخ حصہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور چین کو آئرن کلاڈ دوست اور آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنر قرار دیا تھا۔
پاکستان اور چین کی دفاعی شراکت داری مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کے دوران بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی تھی، جب پاکستان نے چین کے تیار کردہ جے 10 سی لڑاکا طیارے استعمال کیے تھے۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے بھارتی طیاروں پر فضائی پابندی بھی 24 نومبر تک بڑھا رکھی ہے، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1276 ۔ خطے کی سفارتکاری کی ایک اور تازہ خبر یہ ہے: https://ntmnews.online/?p=2361
ماخذ: بلومبرگ کی رپورٹ پر مبنی ڈان، بزنس ریکارڈر، اردو پوائنٹ اور ٹائمز ناؤ کی 28 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔