جنوبی افریقہ بلدیاتی انتخابات، اے این سی کو بڑا امتحان
جنوبی افریقہ میں آج 4 نومبر 2026 کو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں، جنہیں حکمران افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کی مقبولیت کا بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں ریکارڈ 29.2 ملین ووٹرز 23,696 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، پولنگ صبح 7 بجے شروع ہوئی اور رات 9 بجے تک جاری رہے گی۔ اس سے قبل پیر اور منگل کو 14 لاکھ سے زائد خصوصی ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں۔ انتخابی نتائج اتوار کو متوقع ہیں۔
ووٹرز کس کا انتخاب کر رہے ہیں
ووٹرز ملک کی 8 میٹروپولیٹن بلدیات، 44 ضلعی کونسلوں اور 205 مقامی کونسلوں کے لیے کونسلرز منتخب کر رہے ہیں، جو بعد میں میئرز کا انتخاب کریں گی۔ اے این سی وہ جماعت ہے جس نے نیلسن منڈیلا کی قیادت میں 1994 میں سفید فام اقلیتی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی قیادت سنبھالی تھی، لیکن گزشتہ دہائی میں اس کی حمایت مسلسل کم ہوئی ہے۔ 2021 کے بلدیاتی انتخابات میں اے این سی پہلی بار 50 فیصد سے نیچے آئی تھی، اور 2024 کے قومی انتخابات میں اس نے پارلیمانی اکثریت کھو دی تھی، جس کے بعد اسے ڈیموکریٹک الائنس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت بنانی پڑی۔
سروے میں اے این سی کو بڑا دھچکا متوقع
انتخابات سے قبل سروے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس بار اے این سی کی حمایت 40 فیصد سے بھی نیچے جا سکتی ہے، جبکہ بعض سروے میں یہ شرح 30 فیصد کے قریب بھی بتائی گئی ہے۔ ووٹرز کے بڑے خدشات میں پانی کی قلت، بجلی کی بندش، جرائم، بے روزگاری اور مہنگی رہائش شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ کوئی دوسری جماعت اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے کئی شہروں میں غیر مستحکم اتحادی حکومتیں بن سکتی ہیں، جنہیں بنیادی سہولتوں کی ناکامی کا جزوی ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔
جوہانسبرگ اور ڈربن: دو بڑے معرکے
سب سے بڑا انعام جوہانسبرگ ہے، جو جنوبی افریقہ کا تجارتی مرکز ہے۔ ڈیموکریٹک الائنس نے شہر کے میئر کے لیے اپنی 75 سالہ سابق رہنما ہیلن زلے کو میدان میں اتارا ہے، اور نیوز 24 کے سروے میں انہیں 36 فیصد حمایت ملی ہے، یعنی اکثریت کے لیے انہیں اتحادیوں، ممکنہ طور پر اے این سی کی بھی ضرورت ہوگی۔ دوسری طرف ساحلی شہر ڈربن اور وسیع تر کوازولو نٹال صوبے میں سابق صدر جیکب زوما کی جماعت امکھونٹو وی سیزوی (ایم کے) اپنا پہلا بلدیاتی انتخاب لڑ رہی ہے اور وہاں مضبوط چیلنج پیش کر رہی ہے۔ صدر سیرل رامافوسا نے جوہانسبرگ کے ہائیڈ پارک ہائی اسکول میں ووٹ ڈالنا تھا، جہاں صبح سے ہی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔
نتائج کیوں اہم ہیں
حتمی نتائج اتوار کو متوقع ہیں اور ان سے 2029 کے قومی انتخابات سے قبل ملک کی سیاسی سمت کا اندازہ ہوگا۔ نتائج دسمبر 2027 میں اے این سی کی پارٹی کانفرنس میں رامافوسا کے جانشین کی دوڑ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں بھی اسی ہفتے تاریخی انتخابات ہوئے، جن میں ڈیموکریٹس نے دونوں ایوان جیت لیے، تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3597 — اور امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر عبدال السید کی کامیابی کی خبر یہاں ملاحظہ کریں: https://ntmnews.online/?p=3615
جنوبی افریقہ کے یہ بلدیاتی انتخابات اس لحاظ سے بھی تاریخی ہیں کہ یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ آزادی کے بعد کی حکمران جماعت کو اس قدر سخت عوامی آزمائش کا سامنا ہے، اور نتائج آنے والے برسوں کی سیاست کی سمت طے کریں گے۔
ماخذ: الجزیرہ، رائٹرز/سی این بی سی افریقہ — 4 نومبر 2026