کوئٹہ میں نوجوانوں کی ہنر مند تربیت کا پروگرام شروع
بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں نوجوانوں کے لیے پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت کا پروگرام باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو جدید صنعت کی ضروریات کے مطابق تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتیں سکھانا ہے تاکہ وہ ملازمت حاصل کر سکیں یا اپنا کاروبار شروع کر کے معاشی طور پر خود مختار بن سکیں۔
240 سے زائد طالبات زیر تربیت
پروگرام کے تحت اس وقت کوئٹہ میں 240 سے زائد طالبات مختلف کورسز میں زیر تربیت ہیں۔ ان میں بیوٹی سروسز، ہاتھ کی کڑھائی اور دیگر پیشہ ورانہ شعبے شامل ہیں۔ تربیت میں عملی کام پر خاص زور دیا جا رہا ہے تاکہ کورس مکمل کرنے کے بعد شرکا فوری طور پر ملازمت یا اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو جائیں۔
720 نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف
صوبائی حکومت نے اس پروگرام کے تحت کوئٹہ میں 720 سے زائد نوجوانوں کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بہتر ہوں گے، خواتین کی معاشی خود مختاری مضبوط ہوگی اور صوبے میں کاروباری رجحان کو فروغ ملے گا۔
خواتین کی معاشی خود مختاری پر توجہ
پروگرام میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شرکت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بیوٹی سروسز اور ہاتھ کی کڑھائی جیسے شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والی خواتین گھر بیٹھے یا چھوٹے پیمانے پر اپنا کام شروع کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی ہنر کی تربیت ڈگری کے ساتھ ساتھ روزگار کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے صوبے میں جہاں سرکاری ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں۔
بے روزگاری کے خلاف عملی قدم
بلوچستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں ہے اور حکومت کا یہ پروگرام اس مسئلے کا عملی حل پیش کرنے کی کوشش ہے۔ جدید صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان صرف سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ وہ ہنر سیکھیں گے جس کی مارکیٹ میں مانگ ہے۔ اس سے قبل صوبے میں بلوچستان کوٹے پر بھرتیوں کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1805
تعلیم اور ہنر ساتھ ساتھ
حکومت کی جانب سے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل آلات کی فراہمی جیسے اقدامات بھی جاری ہیں، جن میں پانچ لاکھ طلبہ کو کروم بک ڈیوائسز دینے کی اسکیم شامل ہے، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1928 ۔ تعلیم کے ساتھ ہنر کی تربیت کا امتزاج نوجوانوں کو ملازمت کی منڈی کے لیے زیادہ تیار بنا سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
پروگرام کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو واقعی ملازمت یا کاروبار کے مواقع ملتے ہیں یا نہیں۔ اگر 720 نوجوانوں کا ہدف پورا ہوتا ہے اور تربیت یافتہ افراد کو روزگار ملتا ہے تو یہ ماڈل صوبے کے دیگر شہروں میں بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔ فی الحال کوئٹہ میں شروع ہونے والا یہ پروگرام بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک امید افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماخذ: ڈان، 26 اکتوبر 2026