بلوچستان کوٹہ: گریڈ 1 تا 16 بھرتیاں فوری شروع

0

اسلام آباد — سینیٹ کے قائم مقام چیئرمین سیدال خان ناصر نے بلوچستان کے کوٹے پر وفاقی حکومت کی خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں شروع کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم آفس کی ہدایات پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا اور وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کی نمائندگی بہتر بنانا ہے۔

کون سی آسامیاں بھری جائیں گی؟

قائم مقام چیئرمین سینیٹ کے مطابق گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی وہ تمام خالی آسامیاں فوری طور پر پُر کی جائیں گی جو بلوچستان کے کوٹے کے تحت مختص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھرتیوں کا عمل میرٹ پر ہوگا اور اہل امیدواروں کو سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ کوئی اہل نوجوان محض طریقہ کار کی پیچیدگیوں کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔

سیدال خان ناصر نے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں مختلف وفود اور شخصیات سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔ ملاقات کرنے والوں میں سینیٹر عبدالشکور خان، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فرحان چشتی، آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کی رکن سحرش قمر، معروف ٹرانسپورٹر ملک اسحاق کاکڑ کی سربراہی میں وفد، پارلیمانی سیکرٹری اور رکن صوبائی اسمبلی راجہ حنیف کی سربراہی میں وفد اور سابق ڈپٹی میئر میر یونس بلوچ شامل تھے۔ تاجروں، سرمایہ کاروں اور مختلف شعبوں کے نمائندوں نے بھی ان ملاقاتوں میں شرکت کی۔

عمر کی حد میں 35 سال تک رعایت

اس اقدام کی ایک اہم خصوصیت عمر کی بالائی حد میں خصوصی رعایت ہے۔ گریڈ 16 تک کی آسامیوں کے لیے عمر کی حد 35 سال تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے بلوچستان کے زیادہ نوجوان مقابلے میں حصہ لے سکیں گے۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ رعایت صوبے کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے، کیونکہ ماضی میں عمر کی حد بہت سے اہل امیدواروں کے راستے میں رکاوٹ بنتی رہی ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور بھرتی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو جلد از جلد روزگار مل سکے۔

بلوچستان فیڈرل گورنمنٹ فیسیلیٹیشن سینٹر

سیدال خان ناصر نے بلوچستان فیڈرل گورنمنٹ فیسیلیٹیشن سینٹر (بی ایف جی ایف سی) کے قیام کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ سینٹر بلوچستان کے امیدواروں کو وفاقی ملازمتوں کے حوالے سے رہنمائی اور سہولت فراہم کرے گا، جس سے صوبے کے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو بھی معلومات اور رسائی میسر آئے گی۔

بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے کیا مطلب ہے؟

بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ ہمیشہ سے ایک حساس اور اہم موضوع رہا ہے، کیونکہ صوبے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں ہے۔ وفاقی حکومت کی آسامیوں پر بروقت بھرتیاں نہ ہونے سے کوٹے کی آسامیاں خالی رہتی تھیں، جس سے صوبے کی نمائندگی متاثر ہوتی تھی۔ نئے فیصلے سے توقع ہے کہ خالی آسامیوں کا بیک لاگ کم ہوگا اور بلوچستان کے نوجوان وفاقی اداروں میں زیادہ تعداد میں شامل ہو سکیں گے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں ماں کا پولیس افسر پر بیٹے کے قتل کا الزام — https://ntmnews.online/?p=1758
مزید پڑھیں: شورو پارود انخلا — 5 ہزار خاندانوں کو 30 اکتوبر کی ڈیڈ لائن — https://ntmnews.online/?p=1473

ماخذ: اے پی پی / اردو پوائنٹ، 24 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *