وال اسٹریٹ میں تاریخی مندی، نیسڈیک 5.52 فیصد گر گیا

0

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات 5 نومبر کو 19 ماہ کی سب سے بڑی مندی دیکھی گئی — نیسڈیک کمپوزٹ 5.52 فیصد گر کر 24,315 پوائنٹس پر بند ہوا اور تکنیکی طور پر کریکشن میں داخل ہو گیا، جب کہ ڈاؤ جونز 1,833 پوائنٹس اور ایس اینڈ پی 500 بھی 4.36 فیصد نیچے گرا۔ چپ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے جڑے اسٹاکس میں شدید فروخت نے انتخابات کے بعد کی ایک روزہ ریلی کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔

تینوں انڈیکس ایک ہی دن ڈھیر

وال اسٹریٹ پر 5 نومبر کا سیشن شروع سے ہی دباؤ میں رہا۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 1,833.06 پوائنٹس یعنی 3.44 فیصد گر کر 51,523.06 پر بند ہوا، جس سے بدھ کے روز کی 1,569 پوائنٹس کی تاریخی ریلی مکمل طور پر ضائع ہو گئی۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 334.89 پوائنٹس یعنی 4.36 فیصد گر کر 7,353.73 پر آیا، جب کہ نیسڈیک کمپوزٹ 1,421.52 پوائنٹس یعنی 5.52 فیصد گر کر 24,315.00 پر بند ہوا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تینوں انڈیکس کے لیے اپریل 2025 کے بعد کا بدترین دن تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اعلان نے مارکیٹ کو ہلا دیا تھا۔

نیسڈیک کریکشن میں، چپ اسٹاکس کو سب سے زیادہ نقصان

نیسڈیک اب 6 اکتوبر کی اپنی ریکارڈ بندش 27,599.89 سے 11.9 فیصد نیچے آ چکا ہے، یعنی وہ باضابطہ طور پر کریکشن زون میں ہے — کریکشن اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی انڈیکس اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے 10 فیصد یا زیادہ گر جائے۔ سب سے زیادہ نقصان سیمی کنڈکٹر اور اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کو ہوا: فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس ایک ہی دن میں 12.25 فیصد گر گیا، جو تقریباً ساڑھے چھ سال کا بدترین دن تھا۔ اے ایم ڈی کے شیئرز 17.3 فیصد، مائیکرون ٹیکنالوجی 17.5 فیصد اور این ویڈیا 9.3 فیصد گر گئے۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق ایس اینڈ پی 500 کی کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو ایک دن میں 2.9 کھرب ڈالر اور نیسڈیک کی کمپنیوں کی 2.5 کھرب ڈالر کم ہوئی — دونوں ایک روزہ ریکارڈ نقصان ہیں۔

مندی کی وجہ کیا بنی؟

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق فروخت کی بڑی وجہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شاندار کامیابی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ نئی کانگریس اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندیوں اور سخت ضوابط لا سکتی ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جب کہ ٹیکساس، اوہائیو، جارجیا اور نیواڈا سمیت کئی ریاستوں کے گورنر کے انتخابات بھی جیت لیے ہیں۔ اس کے ساتھ کوالکوم کی ہینڈ سیٹ فروخت میں کمی کی خبر نے بھی چپ سیکٹر پر دباؤ بڑھا دیا۔ خوف کا پیمانہ سمجھے جانے والا سی بی او ای وولٹیلٹی انڈیکس (وی آئی ایکس) ایک دن میں تقریباً 69 فیصد بڑھ کر 28.09 پر پہنچ گیا، جو سرمایہ کاروں کی گھبراہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

دنیا بھر کی مارکیٹوں پر اثر

امریکی مندی کا اثر عالمی مارکیٹوں پر بھی پڑا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 5.28 فیصد گر کر 5,383.80 پر بند ہوا، جس میں سام سنگ الیکٹرانکس 7.57 فیصد اور ایس کے ہائنکس 9.46 فیصد نیچے گئے۔ جاپان کا نکی انڈیکس 1.79 فیصد گر کر 61,077.90 پر آیا۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا — برینٹ کروڈ 98.29 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 90.52 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جس کی ایک وجہ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کی خبریں ہیں۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

پاکستان کی معیشت کے لیے عالمی مارکیٹ کی مندی کے مخلوط اثرات ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف تیل کی بڑھتی قیمتیں درآمدی بل بڑھا سکتی ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اس وقت ریکارڈ سطح پر ہیں — اسٹیٹ بینک کے مطابق مجموعی ذخائر 26.86 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 26.86 ارب ڈالر اور پاکستان کا بیرونی قرضہ 10 سال میں دگنا، 135 ارب ڈالر۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سال کے آغاز سے اب تک ایس اینڈ پی 500 اب بھی 7.4 فیصد اور نیسڈیک 4.6 فیصد اوپر ہے، اس لیے ایک دن کی مندی کو طویل مدتی رجحان قرار دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم اے آئی سیکٹر کی قیمتوں اور نئی کانگریس کے ضوابط پر سرمایہ کاروں کی نظریں جمی رہیں گی۔

آگے کیا ہوگا؟

مارکیٹ کی نظریں اب جمعے کے سیشن اور اگلے ہفتے آنے والے امریکی معاشی اعداد و شمار پر ہیں۔ اگر ڈیموکریٹ رہنما ڈیٹا سینٹرز پر پابندی کے حوالے سے واضح موقف اختیار کرتے ہیں تو چپ اسٹاکس میں مزید دباؤ آ سکتا ہے، جب کہ اے آئی کمپنیوں کی آئندہ آمدنی رپورٹس بھی مارکیٹ کی سمت طے کریں گی۔

ذرائع: رائٹرز، دی بزنس ٹائمز، این ڈی ٹی وی، فاکس بزنس، نیویارک پوسٹ — 5 تا 6 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *