پاکستان کا بیرونی قرضہ 10 سال میں دگنا، 135 ارب ڈالر

0

پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 2025 کے اختتام تک تقریباً دگنا ہو کر 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ انکشاف عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 میں کیا گیا ہے، جس کی تفصیل جمعے کو شائع ہونے والے اخبارات میں سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران ملک کے بیرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا، اور اب قرض کی ادائیگیاں قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ کھا رہی ہیں۔

قرضے کا حجم اور ساخت

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کل بیرونی قرضے اور واجبات جون 2025 میں 135.6 ارب ڈالر تھے، جبکہ جون 2026 تک یہ بڑھ کر 138.85 ارب ڈالر ہو گئے۔ ان میں سے حکومت کا براہ راست بیرونی عوامی قرضہ تقریباً 92.2 ارب ڈالر ہے، جبکہ باقی رقم سرکاری اداروں، بینکوں اور نجی شعبے کے بیرونی قرضوں اور واجبات پر مشتمل ہے۔

قرض دینے والے سب سے بڑے اداروں میں عالمی بینک سرفہرست ہے جس کا پاکستان پر تقریباً 22 ارب ڈالر واجب الادا ہے، اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک 16.8 ارب ڈالر اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) 9.2 ارب ڈالر کے ساتھ آتے ہیں۔ دو طرفہ شراکت داروں میں چین سب سے بڑا قرض دہندہ ہے، اس کے بعد سعودی عرب کا نمبر آتا ہے۔

قرض کی ادائیگی کا بوجھ

پاکستان کی سالانہ بیرونی قرض کی ادائیگی کی ذمہ داریاں 21.5 ارب سے 23 ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ مالی سال 2026 کے دوران پاکستان نے بیرونی قرض کے اصل زر کی مد میں 4.46 ارب ڈالر ادا کیے۔ وزارت خزانہ کے مطابق عوامی بیرونی قرضے کا تقریباً 75 فیصد حصہ کثیرالجہتی اداروں اور دو طرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کردہ رعایتی اور طویل المدتی مالی معاونت پر مشتمل ہے، اس لیے صرف مجموعی رقم دیکھ کر قرضے کی نوعیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

جون 2026 کے اختتام پر عوامی قرضہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 68.6 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جو مالی سال 2022-23 میں 75.1 فیصد تھا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ 2022 کے بعد سے قرضے میں اضافے کا بڑا حصہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور دیگر رعایتی ذرائع سے آیا، جبکہ 2022-23 میں ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے بھی کم رہ گئے تھے۔

سعودی رول اوور اور آئی ایم ایف پروگرام

قرضوں کے دباؤ میں کمی کے لیے پاکستان کو حالیہ مہینوں میں کچھ ریلیف بھی ملا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے قرضے کو رول اوور کر دیا ہے، جس کے بارے میں تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3675 ۔ اس کے علاوہ 7 اکتوبر 2026 کو آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف سطح کا ایک اور معاہدہ طے پایا جس سے تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت مل سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کے بارے میں تفصیل یہاں دستیاب ہے: https://ntmnews.online/?p=3792 ۔ حکومت کا ہدف بیرونی قرضے میں 4 ارب ڈالر کی کمی لانا اور یورو بانڈ، پانڈا بانڈ اور روپے سے منسلک ڈالر میں تصفیہ ہونے والے بانڈز کے اجرا کے ذریعے مالی وسائل بڑھانا ہے۔

قرض لینے والے ممالک کی قیادت

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دوران پاکستان کو قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کے ایک عالمی پلیٹ فارم کی قیادت بھی سونپی گئی ہے۔ 12 اکتوبر 2026 کو بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ “بورورز پلیٹ فارم” کی گورننگ کونسل کی صدارت سنبھالی۔ اس پلیٹ فارم میں 30 سے زائد ترقی پذیر ممالک شامل ہیں اور اس کا مقصد قرض کے بہتر انتظام، اصلاحات کے تجربات کے تبادلے اور ترقیاتی مالی معاونت کے نئے ذرائع تلاش کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کا حجم اپنی جگہ، اصل سوال یہ ہے کہ قرض لیا گیا پیسہ کہاں خرچ ہوا۔ عالمی بینک کی رپورٹ ایک بار پھر یہ سوال سامنے لے آئی ہے کہ کیا پاکستان قرض کو ترقی کا ذریعہ بنا پائے گا یا یہ بوجھ مزید بڑھتا جائے گا۔

ذرائع: ڈان، عالمی بینک انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *