آئی ایم ایف: پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک

0

پاکستان کی معاشی شرح نمو 2 فیصد سے بڑھ کر 3.5 فیصد ہو رہی ہے۔ یہ بات عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کنٹری ڈائریکٹر ماہر بینچی نے 5 نومبر کو اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر ایک تاریخی موڑ پر پہنچ چکا ہے اور ملک معاشی بحران سے استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر نے کیا کہا

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب میں بینچی نے کہا کہ پاکستان میں معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری ہے اور معیشت کی سمت درست ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو معاشی نمو کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ استحکام پائیدار ترقی میں بدل سکے۔

بینچی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے جائزے پر بات چیت جاری ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پہلے ہی اعتماد ظاہر کر چکے ہیں کہ پاکستان کی شرح نمو 4 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے گی۔

عالمی مالیاتی فنڈ کی تازہ پیش گوئی کیا ہے

آئی ایم ایف نے اپنی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ شرح گزشتہ مالی سال کے 3.6 فیصد سے معمولی کم، لیکن حکومت کے 4 فیصد ہدف سے بھی نیچے ہے۔ عالمی بینک نے گزشتہ ماہ پاکستان کی شرح نمو 3.8 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

اسی رپورٹ میں آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ لگایا ہے، جو حکومت کے 8.2 فیصد ہدف سے کافی زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال مہنگائی 7.1 فیصد رہی تھی۔ فنڈ نے اپریل میں مہنگائی کی پیش گوئی 8.4 فیصد کی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 9.9 فیصد کر دیا گیا۔

معیشت کے دیگر اشاریے

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2026-27 میں جی ڈی پی کے ایک فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ 0.5 فیصد سرپلس میں تھا۔ بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ عالمی سطح پر معاشی شرح نمو 2026 میں 3.1 فیصد اور 2027 میں 3.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے حالیہ ہفتوں میں کئی مثبت خبریں بھی آئی ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر قرض رول اوور کر دیا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے۔ اسی طرح دس روپے کا نوٹ ختم کر کے سکہ لانے اور نئے نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری بھی معاشی اصلاحات کا حصہ ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے

آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دسمبر میں پاکستان کے قرض پروگرام کے جائزے پر غور کر سکتا ہے، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی عالمی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے معاشی بحالی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماخذ: جیو نیوز (5 نومبر 2026)، ڈان (14 اکتوبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *