زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 26.86 ارب ڈالر، اسٹیٹ بینک

0

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جمعرات کو جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک کے کل مائع زرمبادلہ ذخائر 26 ارب 86 کروڑ 45 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ ایک ہفتے میں ذخائر میں 11 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ 26 ارب 75 کروڑ 42 لاکھ ڈالر تھے۔

اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر

اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21 ارب 56 کروڑ 12 لاکھ ڈالر ہو گئے۔ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر میں بھی 7 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس سے ان کے ذخائر 5 ارب 30 کروڑ 33 لاکھ ڈالر ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس ہفتے بینکوں سے رقم کی روانگی کے مقابلے میں آمد زیادہ رہی، جس سے دونوں طرح کے ذخائر میں بہتری آئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق خلیجی جنگ کے باوجود پاکستان کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، جس نے کمزور معیشتوں کو متاثر کیا اور تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی، لیکن اس کے بعد سے اسٹیٹ بینک نے اپنے ذخائر میں 5 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کیا ہے۔ فروری میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16 ارب 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھے، جو اب بڑھ کر 21 ارب 56 کروڑ ڈالر سے اوپر پہنچ چکے ہیں۔

جون سے اب تک کتنا اضافہ ہوا

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیے کے مطابق جون 2026 سے اب تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 3 ارب 18 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو جون کے آخر میں 18 ارب 38 کروڑ ڈالر تھے۔ اسی عرصے میں ملک کے کل مائع ذخائر 23 ارب 23 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 26 ارب 86 کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں۔ کیلنڈر سال کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دسمبر 2025 کے 21 ارب 10 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں کل ذخائر میں 5 ارب 85 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ درآمدات کی ادائیگی کیلئے یہ ذخائر اب 3.93 ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 3.92 ماہ تھے۔

مالیاتی شعبے کے مطابق اسٹیٹ بینک کے موجودہ ذخائر شرح تبادلہ کو مستحکم رکھنے کیلئے کافی ہیں، اور اس سے برآمد کنندگان کو اپنی آمدنی واپس لانے کی ترغیب ملتی ہے۔ مستحکم شرح تبادلہ درآمد کنندگان کو بھی اعتماد دیتی ہے۔

تجارتی خسارہ اور روپے کی قدر پر بحث

تاہم ذخائر کی ریکارڈ سطح کے ساتھ ساتھ معیشت کے کچھ کمزور پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ مالی سال 27 کے پہلے چار ماہ جولائی سے اکتوبر کے دوران تجارتی خسارہ 14 ارب 60 کروڑ ڈالر رہا، جس میں درآمدات 26 ارب ڈالر اور برآمدات 11 ارب 40 کروڑ ڈالر رہیں۔ کرنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر ضرورت سے زیادہ ہے، جس سے درآمد کنندگان کو سستے ڈالر مل رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تجارتی خسارہ ہر ماہ بڑھ رہا ہے۔

ڈان کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرح تبادلہ کو ترسیلات زر کی قیمت پر مستحکم رکھا جا رہا ہے، جبکہ ترسیلات زر ہر سال بڑھ رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت یا اسٹیٹ بینک نے اب تک ترسیلات کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوئی پالیسی نہیں بنائی، بلکہ انہیں تجارتی خسارے کو پورا کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی 3 ارب ڈالر فنانسنگ رول اوور

ذخائر کی بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں بھی کچھ ریلیف ملا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دی گئی 3 ارب ڈالر کی فنانسنگ کو مزید مدت کیلئے رول اوور کر دیا ہے۔ حکومت کا ہدف رواں مالی سال میں بیرونی قرضوں میں 4 ارب ڈالر کی کمی لانا ہے۔ پاکستان کے بیرونی قرضے کی مجموعی صورتحال پر تفصیل یہاں پڑھیں، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے معاشی شرح نمو کے تازہ اندازے کی خبر یہاں دستیاب ہے۔

ماخذ: ڈان، بزنس ریکارڈر، دی نیشن، اردو پوائنٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *