قشم جزیرے پر دوسری رات بھی دھماکے، ایران کا ڈرون گرانے کا دعویٰ

0

ایران کے قشم جزیرے پر ہفتے 7 نومبر کی صبح بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو اس جزیرے پر ایک ہفتے کے دوران ہونے والا تیسرا واقعہ ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ دو میزائل قشم جزیرے پر گرے ہیں، تاہم نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات نہیں دی گئیں۔ ایران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کی فضائی دفاع نے جزیرے کے اوپر پرواز کرنے والا ایک امریکی ڈرون گرا دیا ہے، جس کی امریکا نے تاحال کوئی تصدیق نہیں کی۔

سوزا کے علاقے میں دو میزائل

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے مقامی عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ جزیرے کے اوپر طیارے کی آواز سنائی دینے کے بعد دو میزائل جزیرے کے جنوبی حصے میں واقع سوزا کے علاقے میں گرے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی جزیرے پر دو دھماکوں کی خبر دی اور بتایا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فارس نیوز ایجنسی نے قشم کے ساتھ ساتھ بندر خمیر کی بندرگاہی شہر میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی اور کہا کہ ان کا تعلق آبنائے ہرمز کی جانب وارننگ شاٹس سے ہو سکتا ہے۔

تسنیم نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ میزائل کس نے داغے یا انہوں نے کیا نشانہ بنایا۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام صورتحال کی جانچ کر رہے ہیں اور تصدیق ہوتے ہی مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ امریکا کی جانب سے ہفتے کی صبح کے ان دھماکوں کی فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی، اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا تعلق جمعے کی شام امریکی حملے سے ہے یا یہ کوئی الگ واقعہ ہے۔

ایران کا امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ

دھماکوں کے چند گھنٹوں بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ایرانی فضائی دفاع نے ہفتے کو قشم جزیرے کے اوپر پرواز کرنے والا ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون گرا دیا۔ اس سے ایک روز قبل جمعے کی رات بھی ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فضائی دفاع نے قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو 1 پریڈیٹر ڈرون گرا دیا تھا۔

امریکا نے ان دونوں دعوؤں کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے اور ڈرون گرنے کا کوئی ملبہ یا تصویر بھی سامنے نہیں آئی جس سے آزادانہ طور پر تصدیق ہو سکے۔ دی ہندو کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے ہفتے کو کہا کہ ایرانی افواج “جنگ کے آغاز سے زیادہ مضبوط” ہیں اور تہران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار ہے۔

جمعے کا امریکی حملہ — پس منظر

یہ تازہ واقعات جمعے کی شام کے امریکی حملے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام ویسٹ پام بیچ پہنچنے کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکی افواج نے قشم جزیرے پر ایرانی فضائی دفاعی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے اس حملے کو “معمولی حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانیوں نے “فضائی دفاع کا ایک چھوٹا سا آلہ بنایا تھا اور ہم نے اسے تقریباً 15 منٹ، شاید پانچ منٹ میں تباہ کر دیا۔”

یہ قشم جزیرے پر پانچ روز میں دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل پیر 2 نومبر کو بھی جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تھا، جب قشم سے ایک امریکی طیارے کی جانب میزائل داغا گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعے کے حملے کے بارے میں اپنا کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

ثالثی کی کوششیں جاری

کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی ناکام نہیں ہوئی ہے اور دونوں فریق معاہدے کی جانب کام کر رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ایران قطر کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جن کا مقصد جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ اختلافات کو دور کرنا ہے۔

ادھر امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کے لیے 20 ملین ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے، اور ایران نے ایٹمی حملے کے خدشے کے پیش نظر اپنے شہریوں میں آیوڈین کی گولیاں تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں۔ ایران: ایٹمی حملے کے خدشے پر آیوڈین گولیاں تقسیم پاکستان کی فوج نے بھی ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے محتاط طور پر پرامید ہونے کا اظہار کیا ہے۔ ایران امریکا ثالثی: پاک فوج محتاط طور پر پرامید — تاہم قشم پر مسلسل دھماکوں سے خطے میں تناؤ برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ماخذ: عرب نیوز / رائٹرز، 7 نومبر 2026؛ دی ہندو، 7 نومبر 2026؛ دی یروشلم پوسٹ، 7 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *