یورپ میں جعلی بم دھمکیاں اب نیوز رومز تک پہنچ گئیں

0

یورپ میں جعلی بم دھمکیوں کی لہر اب ہوائی جہازوں سے آگے بڑھ کر نیوز رومز تک پہنچ گئی ہے۔ جمعے 6 نومبر کو آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای سمیت کئی میڈیا اداروں کو ای میل کے ذریعے بم دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد دفاتر خالی کرا لیے گئے اور نشریات معطل کرنا پڑیں۔ اسی روز یورپ بھر میں کم از کم 18 مزید پروازیں بھی جعلی دھمکیوں کا نشانہ بنیں۔ تاہم اب تک کسی بھی جگہ سے کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا اور تمام طیارے بحفاظت اتر گئے۔

آر ٹی ای اور دیگر میڈیا دفاتر خالی

ڈان کے مطابق جمعے کو آئرلینڈ کے کئی میڈیا اداروں کو بم دھمکیوں والی ای میلز موصول ہوئیں۔ ڈبلن میں آر ٹی ای کے ہیڈکوارٹر پر پولیس تعینات کر دی گئی اور مسلح اہلکار موقع پر پہنچے۔ آئرش انڈیپینڈنٹ اخبار، نیو سٹاک اور ٹوڈے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز اور ورجن میڈیا ٹیلی ویژن کے دفاتر سے بھی عملے کو باہر نکالا گیا۔ نیو سٹاک کی میزبان کلیئر بائرن نے نشریات پر واپس آ کر بتایا کہ عملے کو عمارت چھوڑنے کا کہا گیا تھا اور بعد میں بتایا گیا کہ دھمکی جعلی تھی۔

برطانیہ کے اسکائی نیوز اور بلغاریہ کے نووا ٹی وی کو بھی اسی نوعیت کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق دھمکی آمیز ای میلز پر “مخائل اینڈروپوف” نامی شخص کے دستخط تھے، جبکہ دیگر پیغامات پر روس کی انتہا پسند تنظیم “میل اسٹیٹ” کے جنگجوؤں کا نام درج تھا۔ رائٹرز کے مطابق بھیجنے والے کی شناخت تاحال قائم نہیں ہو سکی۔

جمعے کو 18 پروازیں نشانہ بنیں

میڈیا دفاتر کے ساتھ ساتھ پروازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ جمعے کو لزبن، روم، پراگ اور صوفیہ سے منسلک متعدد پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔ لزبن سے روم جانے والی رائن ایئر کی پرواز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب طیارہ ابھی پرتگالی دارالحکومت کی جانب بڑھ رہا تھا۔ چیک جمہوریہ اور بلغاریہ میں کم از کم 11 پروازیں متاثر ہوئیں — پراگ ایئرپورٹ پر آنے والی چار اور جانے والی پانچ پروازوں سمیت صوفیہ کی دو پروازیں۔

ہنگری کے لڑاکا طیاروں نے جمعے کو ایک گھنٹے کے اندر تین مسافر طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزارنے میں مدد دی۔ برسلز سے صوفیہ اور پراگ سے بخارسٹ اور قبرص جانے والی پروازیں ان میں شامل تھیں۔ ہنگری کے وزیر دفاع نے بتایا کہ نیٹو نے علاقے میں فضائی گشت کا حکم دیا ہے، جو اس معاملے میں فوجی اتحاد کی پہلی مبینہ مداخلت ہے۔ فرانس میں بھی چار پروازوں کو دھمکیاں ملیں اور تمام طیارے پیرس کے اورلی ایئرپورٹ پر معائنے کے لیے بحفاظت اتر گئے۔

ہفتے کی تیسری لہر

یہ دھمکیاں اس ہفتے کی تیسری لہر ہیں۔ جمعرات کو یورپ بھر میں تقریباً 30 پروازیں نشانہ بنی تھیں، جن میں لندن، میڈرڈ اور کوپن ہیگن جانے والے طیارے شامل تھے۔ منگل کو بھی متعدد پروازیں متاثر ہوئی تھیں۔ یورپی فضائی ٹریفک اتھارٹی یورو کنٹرول کے مطابق جمعرات کو 14 پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں، جو اس روز کی تقریباً 26,300 پروازوں کا صرف 0.05 فیصد ہیں، تاہم ہر دھمکی پر لازمی حفاظتی طریقہ کار کے باعث بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہوتا ہے۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے صورتحال کو “تشویشناک” قرار دیا ہے، جبکہ آئرلینڈ کے نائب وزیر اعظم سائمن ہیرس نے اسے “سنگین اور بدلتی ہوئی صورتحال” کہا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی فرد ہے یا کوئی منظم کوشش۔ ہسپانوی وزیر خارجہ نے ان واقعات کو “ہائبرڈ جارحیت” کی ممکنہ کوشش قرار دیا۔ آئرلینڈ اگلے ہفتے ڈبلن میں یورپی یونین کے دو روزہ اہم اجلاسوں کی میزبانی کرنے والا ہے، اور ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ دھمکیوں کا تعلق اسی اجلاس سے ہو سکتا ہے۔

تحقیقات جاری، ذمہ دار کون؟

اب تک کسی گروہ یا فرد نے پروازوں کو دھمکیاں دینے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ آئرلینڈ، چیک جمہوریہ اور ڈنمارک کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان دھمکیوں کے پیچھے کوئی دہشت گرد گروہ یا ریاست ہے، تاہم انہیں بظاہر مربوط قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسی جعلی دھمکیاں، چاہے ان میں کوئی حقیقت نہ ہو، ہوا بازی کے نظام پر بھاری بوجھ ڈالتی ہیں اور مسافروں میں خوف پھیلاتی ہیں۔

اس سے قبل رواں ہفتے یورپ میں 25 پروازوں کو جعلی بم دھمکیاں ملنے کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جس میں ایئر لنگس کی ڈبلن سے روم جانے والی پرواز کو فرانس کے فوجی اڈے پر اتارنا پڑا تھا۔ یورپ میں 25 پروازوں کو جعلی بم دھمکیاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے میں پہلے ہی تناؤ پایا جاتا ہے، اور امریکا نے گزشتہ روز قشم جزیرے پر محدود حملے کی تصدیق کی تھی۔ امریکا کا ایران پر حملہ، قشم جزیرے پر فضائی دفاع تباہ

ماخذ: ڈان، 7 نومبر 2026؛ دی ایکسپریس ٹریبیون / رائٹرز، 7 نومبر 2026؛ پولیٹیکو، 7 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *