ایران: ایٹمی حملے کے خدشے پر آیوڈین گولیاں تقسیم
برطانوی اخبار دی ٹائمز کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے قریب رہنے والے شہریوں میں آیوڈین (پوٹاشیم آئیوڈائیڈ) کی گولیاں تقسیم کر رہا ہے۔ یہ اقدام امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جا رہا ہے، جبکہ ابھی تک کوئی حملہ نہیں ہوا اور کہیں سے بھی تابکاری کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ایرانی وزارت صحت کے ایک اہلکار نے دی ٹائمز کو بتایا کہ جنگ کے دوران حکام ایٹمی تنصیبات کے دو سے تین کلومیٹر کے دائرے میں یہ گولیاں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اہلکار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اب بھروسا نہیں کیا جا سکتا اور وہ حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ رپورٹ ابھی تک ایک ہی ذریعے پر مبنی ہے، کسی دوسرے بڑے بین الاقوامی ادارے نے نئی تقسیم کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔
بوشہر میں ایک لاکھ 80 ہزار گولیاں
ایران کے جنوبی شہر بوشہر میں آیوڈین کی گولیوں کی تقسیم کی تصدیق متعدد ذرائع سے ہو چکی ہے۔ بوشہر میں ملک کا واحد فعال ایٹمی بجلی گھر واقع ہے۔ خبر رساں ادارے ینگ جرنلسٹس کلب کے مطابق بوشہر یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بحران کے انتظام کے حکام کے فیصلے کے تحت اب تک ایک لاکھ 80 ہزار گولیاں تقسیم کی جا چکی ہیں۔
یہ پروگرام جون 2025 کی جنگ سے پہلے شروع ہوا تھا۔ پہلے مرحلے میں بجلی گھر کے آس پاس کے علاقوں کو ترجیح دی گئی، پھر تقسیم پورے شہر تک بڑھا دی گئی۔ گولیاں اب بھی بوشہر کے صحت مراکز سے رہائشیوں کو دستیاب ہیں۔ اصفہان کے ہنگامی خدمات کے ترجمان نے 3 نومبر کی ایک ہدایت میں خبردار کیا تھا کہ صحت حکام کی ہدایت کے بغیر آیوڈین کی گولیاں استعمال نہ کی جائیں۔
پک ایکس ماؤنٹین پر توجہ کیوں
اس خدشے کے مرکز میں نطنز کے قریب واقع پک ایکس ماؤنٹین ہے، جسے کوہ کلنگ گاز لا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک زیر زمین ایٹمی تنصیب ہے جو گرینائٹ کی چٹان میں تعمیر کی گئی ہے اور نطنز کے یورینیم افزودگی پلانٹ سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یکم نومبر کو خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن ایران کی باقی مشتبہ ایٹمی تنصیبات پر دس منٹ کے اندر حملہ کر سکتا ہے، اور خاص طور پر پک ایکس ماؤنٹین کا نام لیا تھا۔ اس سے قبل 16 اکتوبر کو انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے روایتی حملوں کا امکان کھلا رکھا تھا۔
مذاکرات جاری، کوئی مکمل معاہدہ نہیں
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بھی جاری ہے جب دونوں ممالک کے درمیان قطر کی ثالثی میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک کوئی مکمل معاہدہ طے نہیں پایا۔ ایران نے اپنی شرائط میں پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل کی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز بھی مذاکرات کا ایک اہم موضوع ہے۔
یہ صورتحال فروری 2026 کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہوئی۔ ٹرمپ نے 5 نومبر کو وائٹ ہاؤس میں ایران پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا تھا، جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا فیصلہ جلد آئے گا۔
آیوڈین کی گولیاں کیا کرتی ہیں اور کیا نہیں
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں تھائیرائیڈ گلینڈ کو تابکار آیوڈین جذب کرنے سے بچانے میں مدد دیتی ہیں، لیکن یہ دیگر تابکار مادوں یا دھماکے اور گرمی سے کوئی تحفظ نہیں دیتیں۔ ایرانی صحت حکام کی ہدایت کے مطابق یہ گولیاں ممکنہ تابکاری کے سامنے آنے سے 24 گھنٹے پہلے سے 4 گھنٹے بعد تک لی جا سکتی ہیں، اور خوراک عمر کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔
ایرانی حکام نے شہری دفاع کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں پک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی صورت میں زندہ رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ تاہم الجزیرہ کی جانچ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا میں قریب الوقوع ایٹمی حملے کی کوئی سرکاری وارننگ نہیں ملی، اور ویڈیو کو جس انداز میں پیش کیا گیا وہ گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔
متعلقہ خبریں: ٹرمپ کے ایران پر فیصلے کے بارے میں پڑھیں https://ntmnews.online/?p=3867 اور آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملے کے بارے میں https://ntmnews.online/?p=3750
ماخذ: دی ٹائمز، 6 نومبر 2026؛ ٹی آر ٹی ورلڈ، 6 نومبر 2026؛ ترکیے ٹوڈے، 6 نومبر 2026؛ البوابہ، 6 نومبر 2026۔