ٹرمپ: ایران پر فیصلہ جلد، حملے کا اشارہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مزید کارروائی کا فیصلہ جلد ہوگا، اور انہوں نے نئے حملوں کا امکان برقرار رکھا ہے۔ مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ٹرمپ پہلی بار ایران جنگ پر اپنے اگلے قدم کا اشارہ دے رہے ہیں۔
جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “میں چاہوں گا کہ اگر ممکن ہو تو باقی ملک کو تباہ نہ کروں، لیکن شاید مجھے کرنا پڑے۔ آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا۔” انہوں نے کوئی ٹائم ٹیبل یا اہداف نہیں بتائے، اور نہ یہ اعلان کیا کہ نئے حملے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
مڈٹرم شکست کے بعد دباؤ
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب ان کی پارٹی کو 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں دونوں ایوانوں میں شکست ہوئی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے کھل کر کہا تھا کہ “ہارنے کی وجہ جنگ ہے”، اور ٹرمپ نے بھی جزوی طور پر اس سے اتفاق کیا تھا کہ جنگ نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ووٹروں کو ناراض کیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ووٹر سروے کے مطابق تقریباً 10 میں سے 6 ووٹروں کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی غلط فیصلہ تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے 8 اکتوبر کو وعدہ کیا تھا کہ مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں ہوگا، اور یہ وعدہ اب انتخابات کے ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو چکا ہے۔
ڈیموکریٹس کی جنگ ختم کرنے کی تیاری
دوسری جانب ڈیموکریٹس نے جنگ ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ہاؤس خارجہ امور کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے کہا ہے کہ وہ جنگ کو فوری ختم کرنے کی قراردادیں ایوان میں لائیں گے اور جنگ کے مقاصد و اخراجات پر جواب طلب کریں گے۔ ڈیموکریٹک وِپ کیتھرین کلارک نے بھی جنگ کے مقاصد اور اخراج کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے ہیں۔
ایران کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی قوم نے ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز میں اسٹریٹجک شکست اور واشنگٹن میں سیاسی شکست دی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے دوبارہ شروع ہوئے تو دشمنی پھیل سکتی ہے۔
کیا آگے ہوگا؟
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے آخر میں ٹرمپ سے فون پر بات کر کے ایران پر نئے حملوں پر زور دیا تھا، تاہم ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا وعدہ نہیں کیا۔ سینٹرل کمانڈ ممکنہ بڑی کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے، مگر اسے ابھی نئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایک مشکل دوراہے پر ہیں: ایک جانب ان کے اپنے نائب صدر اور ووٹر جنگ سے ناراض ہیں، دوسری جانب وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت انتخابات کے بعد 95 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے، جس سے مارکیٹ کو لگتا ہے کہ بڑے حملے فوری متوقع نہیں۔
ایران جنگ نے امریکی سیاست کو گہرا تقسیم کر دیا ہے، اور وینس کے بیان پر ہماری انگریزی خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3810 ۔ مڈٹرم انتخابات کے نتائج اور اس کے اثرات پر ہماری تفصیلی خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3724
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، نیو انڈین ایکسپریس، کوریا ٹائمز، حریت ڈیلی نیوز، ای ٹی وی بھارت — 6 نومبر 2026