بشریٰ بی بی کی آنکھیں خطرے میں، IHC سے علاج کی درخواست

0

بشریٰ بی بی نے اپنی تیزی سے بگڑتی ہوئی بینائی کے فوری علاج کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ سابق خاتون اول اور پی ٹی آئی بانی عمران خان کی اہلیہ نے ہفتے کے روز عدالت میں ایک متفرق درخواست دائر کی جس میں اڈیالہ جیل حکام سے ان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرنے اور اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے اپنے خرچ پر علاج کی اجازت مانگی گئی ہے۔ ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا ہے کہ بشریٰ بی بی کی آنکھیں “انتہائی نازک حالت” میں ہیں اور ان کی بینائی تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔

درخواست میں کیا مانگا گیا؟

بشریٰ بی بی کی درخواست 190 ملین پاؤنڈ کیس میں زیر التوا اپیلوں کے سلسلے میں دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ ان کی صحت سے متعلق ایک تازہ اور جامع میڈیکل رپورٹ پیش کریں جس میں تشخیص اور علاج کی مکمل تفصیل شامل ہو۔

درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ کسی ماہر امراض چشم سے فوری معائنہ کرایا جائے، جیل کے میڈیکل افسر کے ساتھ مشاورت کی جائے اور جیل سے باہر کسی ماہر مرکز میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ بشریٰ بی بی نے اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹر سے اپنے خرچ پر علاج کرانے کی اجازت بھی مانگی ہے۔ درخواست ان کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے دائر کی گئی، اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسے ڈائری نمبر الاٹ کر دیا ہے۔

وکیل کا حلف نامہ: آنکھوں کی حالت تشویشناک

بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا ہے جس میں انہوں نے 2 نومبر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے اپنی ملاقات کی تفصیل بیان کی ہے۔ حلف نامے کے مطابق جیل حکام نے انہیں 31 اکتوبر کو بتایا تھا کہ 2 نومبر کو سہ پہر ساڑھے تین بجے ملاقات طے ہے۔

صفدر کے مطابق بشریٰ بی بی نے ملاقات کے دوران بہت گہرے رنگ کے چشمے پہنے ہوئے تھے کیونکہ وہ قدرتی یا مصنوعی روشنی برداشت نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چشموں کے بغیر اپنی آنکھیں کھول بھی نہیں سکتیں اور جیل میں رہتے ہوئے ان کی بینائی تیزی سے خراب ہوئی ہے۔

بشریٰ بی بی نے وکیل کو بتایا کہ معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو “میچور موتیا” قرار دیا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ 15 نومبر کے قریب آنکھ کا دوسرا آپریشن کرنا ہوگا۔ ان کا پہلا آپریشن 18 اپریل کو ہوا تھا جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

پس منظر: سزا اور صحت کی تشویش

بشریٰ بی بی 190 ملین پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ دسمبر 2025 میں انہیں توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی، یہ کیس مئی 2021 کے دورے میں سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے مہنگے زیورات کے سیٹ کی خریداری سے متعلق ہے۔

عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی کی تشویش جاری ہے۔ ایک روز قبل پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ بنانے کے 18 اگست کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرایا جائے۔ عمران خان کی صحت پر تشویش، گوہر کا سپریم کورٹ سے مطالبہ https://ntmnews.online/?p=3932 واضح رہے کہ صحت سے متعلق دعوے تاحال متعلقہ فریقین کے بیانات پر مبنی ہیں، عدالت یا جیل حکام کی جانب سے کوئی آزاد میڈیکل رپورٹ ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست پر غور شروع کر دیا ہے اور 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت بشریٰ بی بی کا میڈیکل ریکارڈ طلب کرنے اور ان کے علاج کے لیے کیا حکم دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ فوری طبی مداخلت نہ ہوئی تو ان کی بینائی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ جیل حکام کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے عمران خان کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی کی تشویش https://ntmnews.online/?p=1320 بھی پڑھیں۔

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز — 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *