سعودی عرب: حوثیوں کے 5 میزائل تباہ، ریاض اور مشرقی صوبہ نشانہ
سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار 8 نومبر کی صبح یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل تباہ کر دیے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق تین بیلسٹک اور دو کروز میزائل ریاض اور مشرقی صوبے کی طرف داغے گئے تھے، جنہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
مشرقی صوبے اور ریاض پر حملے
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پہلا بیلسٹک میزائل اتوار کی صبح سویرے مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا، جسے فضائی دفاع نے تباہ کر دیا۔ چند گھنٹوں بعد حوثیوں نے ریاض کی طرف دو مزید بیلسٹک میزائل داغے، جو بھی تباہ کر دیے گئے۔ سعودی گزٹ کے مطابق اس کے علاوہ دو کروز میزائل بھی ریاض اور جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے، جنہیں بھی فضائی دفاع نے ناکام بنا دیا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ تمام میزائل اپنے مقررہ ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کر دیے گئے۔ سعودی سول ڈیفنس نے حملوں سے قبل دمام، الاحسا اور بقیق میں ہنگامی وارننگ جاری کی تھی، جبکہ ریاض شہر اور نجران صوبے میں بھی خطرے کی وارننگ دی گئی۔ بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
ریاض میں عمارت کو نقصان
ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع ایک ٹاور کو ایک پروجیکٹائل لگنے سے نقصان پہنچا۔ رپورٹ ایک عینی شاہد اور معاملے سے باخبر تین افراد کے حوالے سے دی گئی ہے، تاہم سعودی حکام نے اس نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد سول ڈیفنس نے شہریوں کو خبردار کیا تھا۔
نومبر میں حملوں کی لہر
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب پر نومبر کے آغاز سے اب تک کم از کم 15 بیلسٹک اور کروز میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جنہیں فضائی دفاع نے تباہ کیا۔ یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری آٹھ ماہ پرانی جنگ کے پس منظر میں ہو رہے ہیں، جس کے دوران خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی قیادت والے اتحاد کے فضائی حملوں میں صنعا کے قریب الشریعہ گاؤں میں 33 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 8 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق سعودی اتحاد نے ان حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پس منظر: یمن اور خطے کی کشیدگی
یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان جنگ برسوں سے جاری ہے، اور حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے سعودی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل یمن کے تعز صوبے کے الواضیہ ضلع میں ایک بازار پر فضائی حملے میں 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کا الزام حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت نے ایک دوسرے پر لگایا تھا۔ تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4164
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکا نے خلیج عمان میں ایک کارگو جہاز کو ناکارہ کر دیا اور ایران کے ساحلوں پر بحری ناکہ بندی سخت کر دی۔ اس واقعے کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4130
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر الرٹ ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سول ڈیفنس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ میزائل یا ڈرون حملوں سے متعلق تصاویر یا ویڈیوز فلم بنا کر شیئر نہ کریں، کیونکہ اس پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
ماخذ: عرب نیوز، الجزیرہ، سعودی گزٹ، ٹریبیون — 8 نومبر 2026