امریکا نے خلیج عمان میں جہاز ناکارہ کر دیا

0

امریکا نے 7 نومبر کو خلیج عمان میں سینٹ کٹس کے جھنڈے والے کارگو جہاز ایم وی ہدا کو ناکارہ کر دیا، جبکہ اسی روز ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں قشم جزیرے اور جاسک بندرگاہ پر دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جہاز کے عملے نے بار بار وارننگ نظر انداز کی اور ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔

سینٹ کام کا بیان: جہاز کو کیسے ناکارہ کیا گیا

سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی فورسز نے درست نشانے والے ہتھیاروں سے جہاز کے پچھلے حصے کو نشانہ بنایا، جس سے وہ چلنے کے قابل نہ رہا۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاز ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد علاقائی پانیوں سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کے شہری عملے نے بار بار ہدایات کی خلاف ورزی کی۔ حملے سے پہلے عملے کو ہدف بنائے گئے حصوں سے نکل جانے کی براہ راست ہدایت دی گئی تاکہ جانی نقصان نہ ہو۔

سینٹ کام نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل جاری رکھے گا اور خلیج عمان کے قریب سفر کرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

جولائی سے اب تک ناکہ بندی کی کارروائیاں

امریکی فوج کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جاری ناکہ بندی کی کارروائیوں میں 147 تجارتی جہازوں کو ہدایات پر عمل کرنے کے بعد واپس موڑ دیا گیا، جبکہ رکنے سے انکار کرنے والے پانچ تجارتی جہازوں کو ناکارہ کیا جا چکا ہے۔ امریکا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کی فورسز نے ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری نیٹ ورک سے منسلک 10 تجارتی تیل بردار جہاز تباہ کیے ہیں۔

قشم اور جاسک پر دھماکوں کی اطلاعات

اسی دوران ایران کے جنوبی علاقوں سے دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم اور سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق آبنائے ہرمز کے اندر واقع قشم جزیرے پر کم از کم دو الگ دھماکے سنے گئے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے خلیج عمان کے ساتھ واقع صوبہ ہرمزگان کی بندرگاہ جاسک پر بھی کئی دھماکوں کی خبر دی۔

ایرانی حکام نے دھماکوں کی اصل وجہ کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی ہے، جبکہ امریکی فوج نے بھی ان اطلاعات پر ایسوسی ایٹڈ پریس کی درخواست پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: قشم پر دوسری رات بھی دھماکے

تیل بردار جہازوں پر سمندری بارودی سرنگوں کا دعویٰ

ایران کی جانب سے ایک اور دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب دو تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں جہازوں نے اپنے نیوی گیشن نظام بند کر رکھے تھے اور وہ آبی گزرگاہ کے غیر محفوظ حصے سے گزر رہے تھے، جس سے انہیں شدید نقصان پہنچا اور وہ رک گئے۔ یہ دعویٰ تاحال آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہے۔

پس منظر: ایران امریکا کشیدگی میں نیا اضافہ

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو تصدیق کی تھی کہ امریکی فوج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام پر محدود حملے کیے ہیں، جسے انہوں نے “معمولی” کارروائی قرار دیا تھا۔

اس سے قبل 2 نومبر کو بھی قشم اور ہنگام جزائر کے قریب امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، اور 7 نومبر کو ایران نے اپنے میزائل کی حد کی پابندی ختم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا جواب بغیر کسی جغرافیائی حد کے دے گا۔

مزید پڑھیں: ایران نے میزائل رینج کی حد ختم کر دی

آگے کیا ہوگا

آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ خلیج عمان میں جہاز کو ناکارہ کیے جانے اور قشم پر دھماکوں کے بعد اس آبی گزرگاہ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں، مگر تازہ واقعات نے ان کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

ماخذ: انڈیا ٹی وی (8 نومبر 2026)، الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *