زاپوریژیا ایٹمی پلانٹ بجلی سے محروم
یوکرین کے زاپوریژیا ایٹمی پلانٹ نے اتوار 8 نومبر کی صبح بیرونی بجلی کی فراہمی مکمل طور پر کھو دی ہے اور پلانٹ اب صرف ڈیزل جنریٹرز پر چل رہا ہے۔ یہ 2026 کے آغاز سے اب تک پلانٹ کی بیرونی بجلی سے محرومی کا 16 واں واقعہ ہے، جس سے جوہری سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
یوکرین کی سرکاری ایٹمی توانائی کمپنی اینرگواٹم کے مطابق 8 نومبر کو مقامی وقت کے مطابق صبح 2 بج کر 36 منٹ پر پلانٹ کی آخری فعال 330 کلو وولٹ بجلی لائن فیرواسپلاونا-1 منقطع ہو گئی، جس سے پلانٹ کا یوکرین کے قومی بجلی گرڈ سے رابطہ ختم ہو گیا۔ لائن کو خودکار طریقے سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔
جنریٹرز پر انحصار خطرناک کیوں
اینرگواٹم نے خبردار کیا ہے کہ بلیک آؤٹ کی حالت میں پلانٹ کی تمام اندرونی ضروریات صرف ڈیزل جنریٹرز سے پوری کی جا رہی ہیں۔ اگر جنریٹرز خراب ہو جائیں یا ان کا ایندھن ختم ہو جائے تو ایٹمی ایندھن کی ٹھنڈک کا نظام ناکام ہو سکتا ہے، جس سے تابکاری کے حادثے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق مکمل گرڈ منقطع ہونے کی صورت میں پلانٹ کے ہنگامی جنریٹرز کو چلانے کے لیے روزانہ تقریباً 150 میٹرک ٹن ڈیزل درکار ہوتا ہے، جس سے ایندھن کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔
روس کے زیر انتظام انتظامیہ کا موقف
پلانٹ کی روس کے زیر انتظام انتظامیہ نے بھی بیرونی بجلی کی فراہمی کے خاتمے کی تصدیق کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق انتظامیہ نے روسی ریاست کے زیر حمایت میسجنگ ایپ میکس پر جاری بیان میں کہا کہ فیرواسپلاونا لائن نقصان کی وجہ سے حفاظتی نظام کے تحت بند ہوئی، اور ڈیزل جنریٹرز پلانٹ کے محفوظ آپریشن کے لیے درکار آلات کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق پلانٹ اور نگرانی والے علاقے میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔
زاپوریژیا ایٹمی پلانٹ یورپ کا سب سے بڑا ایٹمی پلانٹ ہے اور 2022 سے روس کے قبضے میں ہے۔ اینرگواٹم کا کہنا ہے کہ بیرونی بجلی کی بار بار بندش قبضے کا براہ راست نتیجہ ہے۔
کیف پر حملے اور جنگ کی تازہ صورتحال
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب روس نے گزشتہ رات کیف پر بڑا حملہ کیا تھا، جس میں 36 میزائل اور 172 ڈرون استعمال کیے گئے۔ اس حملے پر تفصیلی رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4142
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے نمائندے پلانٹ میں موجود ہیں، تاہم ایجنسی نے ابھی تک بجلی کی اس بندش پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ایران نے بھی حال ہی میں اپنے میزائلوں کی رینج کی حد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا — اس پر رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4078
آگے کیا ہوگا
اینرگواٹم نے کہا ہے کہ بیرونی بجلی کی بحالی کے لیے کام جاری ہے، لیکن جب تک گرڈ سے رابطہ بحال نہیں ہوتا، پلانٹ ڈیزل جنریٹرز پر ہی رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بلیک آؤٹ کے ساتھ حادثے کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے، کیونکہ جنریٹرز محدود وقت تک ہی کام کر سکتے ہیں۔
یوکرین کی حکومت اور بین الاقوامی برادری نے بار بار پلانٹ کے گرد غیر فوجی علاقہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جوہری تباہی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
ماخذ: اینرگواٹم، 8 نومبر 2026؛ رائٹرز، 8 نومبر 2026؛ یوکرینفارم