کیف پر روس کا بڑا حملہ، 36 میزائل اور 172 ڈرون

0

روس نے ہفتے کی رات یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گردونواح پر 36 بیلسٹک میزائل اور 172 ڈرون داغ کر ایک ہی رات میں حالیہ مہینوں کا سب سے بڑا حملہ کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے، جن میں ایک 7 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ کیف میں بجلی، پانی اور حرارتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ دریائے دنیپرو پر واقع شمالی پل کو نقصان پہنچنے کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ حملہ منگل کو ابوظہبی میں ہونے والے امریکہ، روس اور یوکرین کے سہ فریقی مذاکرات سے صرف تین روز قبل ہوا ہے۔

حملے کی تفصیل

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتے کو ایک بیان میں بتایا کہ روس نے رات بھر کیف اور گردونواح کو نشانہ بنایا۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق 36 بیلسٹک میزائلوں میں سے صرف 4 کو روکا جا سکا، جبکہ 172 ڈرونز میں سے 149 کو مار گرایا گیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ میزائلوں کو روکنے کی کم شرح کی وجہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی ہے، اور یوکرین کو فوری طور پر مزید دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔ حملے میں کیف کے رہائشی علاقوں اور تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک کنڈرگارٹن بھی متاثر ہوا۔ یوکرین کی وزارت توانائی کے مطابق کیف سے باہر توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے سنگین نقصان ہوا، جن میں وہ نظام بھی شامل ہیں جو دو ایٹمی بجلی گھروں سے کیف اور وسطی علاقوں تک بجلی پہنچاتے ہیں۔ پانچ دیگر علاقوں میں بھی سب اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

شمالی پل اور بجلی کا بحران

دریائے دنیپرو پر 816 میٹر طویل شمالی پل اس حملے کا ایک اہم ہدف تھا۔ یہ پل دارالحکومت کو مشرقی کنارے کے بڑے رہائشی علاقوں سے جوڑتا ہے۔ روس کی وزارت دفاع نے ہفتے کو تصدیق کی کہ اس نے پل کو نشانہ بنایا، اور دعویٰ کیا کہ یہ پل یوکرینی افواج کے لیے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ صدر زیلنسکی نے کہا کہ دارالحکومت کو بجلی، پانی اور حرارت کی فراہمی میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ درجہ حرارت صفر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یوکرین کی توانائی کی تنصیبات پر روس کی مہم کئی ہفتوں سے جاری ہے، اور حالیہ حملے نے سردیوں سے قبل شہر کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

شمالی کوریا کے میزائل کا دعویٰ

صدر زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق روس نے توانائی کی ایک اہم تنصیب پر شمالی کوریا کے بنے ہوئے کے این 23 بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔ یہ دعویٰ ابھی ابتدائی نوعیت کا ہے اور حتمی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ماسکو کو ہتھیاروں کی فراہمی میں پیانگ یانگ کے کردار کو مزید واضح کرے گا۔ روس کی وزارت دفاع نے صرف اتنا کہا کہ اس نے کیف اور گردونواح میں فوجی صنعتی، توانائی اور نقل و حمل کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

یوکرین کا جوابی حملہ

یوکرین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے روس کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ساراتوف آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جس سے وہاں بڑی آگ بھڑک اٹھی۔ اس ریفائنری کی یومیہ پروسیسنگ صلاحیت تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار بیرل خام تیل ہے۔ یوکرین کی مہم روسی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے، تاکہ ماسکو کی جنگی معیشت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

ابوظہبی مذاکرات سے پہلے دباؤ

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کار منگل اور بدھ کو ابوظہبی میں ملنے والے ہیں۔ یہ فروری کے بعد پہلا سہ فریقی اجلاس ہوگا، جس کا مقصد تقریباً پانچ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوشش ہے۔ صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس سہ فریقی مذاکرات کی تیاری یوکرین کے اہم بنیادی ڈھانچے پر بیلسٹک میزائل داغ کر کر رہا ہے۔ امریکہ میں حالیہ وسط مدتی انتخابات کے بعد یوکرین کو امید ہے کہ ڈیموکریٹک اکثریت والی کانگریس سے روس کے خلاف مزید مضبوط حمایت ملے گی۔ گزشتہ چند روز میں کیف پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل 6 اور 7 نومبر کی رات بھی روس نے کیف پر میزائل برسائے تھے، جن میں رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا تھا اور بچے سمیت کئی شہری زخمی ہوئے تھے۔ یوکرین نے امریکہ سے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی فوری فراہمی کی اپیل دہرائی ہے، جبکہ امریکہ نے گزشتہ ہفتے 500 پیٹریاٹ پی اے سی 3 میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی تھی۔ آنے والے دنوں میں ابوظہبی مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا دونوں فریق جنگ بندی کی طرف کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں، یا حملوں کا یہ سلسلہ مذاکرات کی میز پر بھی سایہ ڈالتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: کیف پر روس کے میزائل حملے، زیلنسکی کی وارننگ — https://ntmnews.online/?p=4041 اور شی، ٹرمپ اور پوتن ملاقات پر چین کی تصدیق — https://ntmnews.online/?p=3999

ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، روئٹرز، الجزیرہ، نیویارک پوسٹ، ٹائمز ناؤ، منیلا ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *